خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 931 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 931

خطبات طاہر جلد ۱۲ 931 خطبه جمعه ۳ دسمبر ۱۹۹۳ء اس کا ذکر پہلی پہلی آ آید آیت : میں ملتا ملتا ۔ ہے۔ یہ دوسری آیت جس کی میں نے نے تلاوت تلاوت کی کی تھی بھی : یہاں سے شروع ہوتی ہے۔ اَعَدَّ اللهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے بہت شدید عذاب تیار کر رکھا ہے۔ فَاتَّقُوا اللهَ يَأُولِي الْأَلْبَابِ پس اے اولو الالباب اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ یہاں اولو الالباب سے خصوصیت سے وہی اولو الالباب مراد ہیں جن کی تعریف قرآن کریم میں دوسری جگہ اہلِ ذکر کے طور پر کی گئی ہے۔ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيمًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُو بِهِمْ وہ اولوالالباب وہ صاحب عقل لوگ جو اللہ کا ذکر کرتے ہیں۔ چنانچہ اسی مضمون کو نبھاتے ہوئے اس آیت کریمہ میں بھی ذکر ہی کے مضمون کو کھول کر ہمارے سامنے پیش فرمایا گیا ہے۔ اولو الالباب کی تعریف یہ ہے الَّذِينَ آمَنُوا وہ لوگ جو ایمان لے آئے اور مخاطب وہ ہیں يَأُولِي الْأَلْبَابِ اے اولی الالباب یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے ہو۔ قَدْ أَنْزَلَ الله إِلَيْكُمْ ذِكْرًا تمہارے لئے اللہ تعالیٰ نے ذکر اتارا ہے۔ رَسُولًا جو رسول ہے۔ يَتْلُوا عَلَيْكُمْ آیت الله تم پر اللہ کی آیات پڑھ کر سناتا ہے ۔ مُبَيِّنَتٍ لِّيُخْرِجَ الَّذِينَ آمَنُوا کھلی کھلی روشن آیات ہیں ۔ لِيُخْرِجَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ تا کہ وہ لوگ جو ایمان لے آئے ہیں اور نیک عمل کئے ہیں ان کو اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لے جائے۔ وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللهِ وَيَعْمَلْ صَالِحًا پس جو بھی اللہ پر ایمان لائے اور عمل صالح کرے يُدْخِلْهُ جَنَّتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهُرُ ان کو اللہ تعالیٰ ایسی جنات میں ایسے باغات میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ خُلِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ قَدْ اَحْسَنَ اللهُ لَهُ رِزْقًا اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے ایک غیر معمولی شان کا رزق بنا رکھا ہے، تیار فرما رکھا ہے۔ یعنی عَذَابًا شَدِيدًا کے مقابل پر یہ انجام ہے ان لوگوں کا۔ بعض لوگوں کے لئے أَعَدَّ اللهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا اور بعض لوگوں کے لئے قَدْ أَحْسَنَ اللهُ لَهُ رِزْقًا خدا تعالیٰ نے اس کے لئے ایسے نیک بندے کے لئے ایک غیر معمولی شان کا رزق تیار کر رکھا ہے۔ الله اب یہاں جو ذکر کا مضمون ہے۔ اسے ایک وجود کی صورت میں پیش فرمایا گیا ہے اور وہ وجود حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ ہیں۔ آپ تو ذاکر تھے، مذکر تھے۔ خدا کو یادرکھنے والے اور لوگوں کو خدا کی یاد کرانے والے تو دراصل ذکر لفظ کے اندر یہ دونوں مفہوم اس وقت شامل ہوتے ہیں اگر کوئی