خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 930 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 930

خطبات طاہر جلد ۱۲ 930 خطبه جمعه ۱۳ دسمبر ۱۹۹۳ء ہے اس عورت کی ادائیں نظر آ جاتی ہیں، پہچانی جاتی ہیں۔ نا ممکن ہے کہ کوئی بھٹکی ہوئی نظر اس عورت پر پڑے اور اس کی حوصلہ افزائی ہو۔ وہ عورت اپنے آپ کو سنبھالنا جانتی ہے۔ پس یہ کم سے کم روح ہے جس کو قائم رکھنا ضروری ہے اور ایسے ممالک جہاں سے پردے اٹھ رہے ہیں۔ وہاں اس روح کو زیادہ خطرات درپیش ہیں کیونکہ جہاں پردے اٹھ چکے ہیں وہاں تھوڑا سا بھی انسان کوشش کرے تو اسلامی پردے کی روح کی طرف قدم بڑھ سکتا ہے۔ جہاں سے پردے اٹھ رہے ہوں وہاں نفسیاتی بیماریاں قوم کے دل میں جگہ لے لیا کرتی ہیں۔ وہاں ذرا سا بھی پردہ بعض دفعہ یوں لگتا ہے جیسے کسی عورت کو اگلے زمانے کی چیز دکھائے گا اور شرم نیکی سے نہیں بلکہ بدی سے آنے شروع ہو جاتی ہے اور اس کے نتیجے میں اگلی نسلیں اور بھی زیادہ آگے قدم بڑھاتی ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں تھوڑی سی چھٹی ملی ہے تو اس سے بھی زیادہ ہونی چاہئے اور تیزی کے ساتھ اسلامی اقدار کی طرف سے پیٹھ پھیرتی ہوئی ہماری بچیاں غیر اسلامی اقدار کی طرف بڑھنے لگتی ہیں۔ پس پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش وغیرہ ایسے ممالک میں جہاں پہلے بڑی شدت کے ساتھ پر دے رائج تھے اب بعض نئے تقاضوں کے پیش نظر ویسی سختی نہیں ہو سکتی ۔ وہاں روح کی حفاظت اور بھی زیادہ احتیاط کے ساتھ ضروری ہے اور بھی زیادہ توجہ کے ساتھ ضروری ہے۔ پس میں امید رکھتا ہوں کہ اس کے بعد کوئی مزید دو سو سے دلوں میں پیدا نہیں ہوں گے۔ جو میں نے بیان کرنا تھا کر دیا۔ توفیق تو اللہ ہی دے گا اور میری دعا یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو تو فیق عطا فرمائے کہ جو باتیں میں کہتا ہوں الفاظ کے چکر میں نہ پڑیں اس کی روح کو سمجھیں اس کے مفہوم کو ذہن نشین کریں اور دل سے ان پر عمل درآمد کرنے کی کوشش کریں۔ وہ دو آیات جن کی میں نے تلاوت کی تھی ان کا ترجمہ یہ ہے أَعَدَّ اللهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا اللہ نے ان کے لئے بہت ہی شدید عذاب تیار کر رکھا ہے۔ فَاتَّقُوا اللهَ يَأُولِي الْأَلْبَابِ پس اللہ کا تقویٰ اختیار کرواے اولو الالباب ، اے عقل والو۔ یہاں ان سے کیا مراد ہے۔ ان کا ذکر پہلی آیت میں ہو چکا ہے۔ اور وہ ایک لمبا ذکر ہے اس لئے میں نے اس آیت کی یہاں تلاوت نہیں کی۔ وہ قو میں مراد ہیں وہ بستیاں جن کے رہنے والوں نے اپنے رب اور اپنے قومیں طرف آنے والے رسولوں کی اطاعت سے روگردانی کی ، ان کی نافرمانی کی اور پھر وہ کسی حال کو پہنچے