خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 89
خطبات طاہر جلد ۱۲ 89 خطبہ جمعہ ۲۹؍ جنوری ۱۹۹۳ء تقاضا ہے کہ خاموشی اختیار کروں اور جہاں خاموشی اختیار کی گئی وہاں سے یاد دہانی کے تقاضے آنے شروع ہو گئے۔بار بار یاد دہانیاں آئیں کہ آپ نے ابھی تک اس کا جواب نہیں دیا جو ہم نے نظم بھیجی تھی اس کی تو بات ہی نہیں کی خط میں خالی دعائیں بھیج دیں مگر میں نے جو کلام بھیجا تھا اس کا ذکر ہوتا پھر لکھنا پڑتا ہے کہ آپ کی باتوں میں جذبات بہت پیارے ہیں خیالات بھی شاعرانہ ہیں لیکن جس مصیبت میں آپ مبتلا ہو گئے ہیں اس سے نکلیں آپ کے بس کی بات نہیں ہے۔تو میں کوشش کرتا ہوں کہ جس حد تک ہو حوصلہ شکنی کے بغیر دل توڑے بغیر نرم سے نرم الفاظ میں سچائی کا اظہار کروں۔لیکن ساتھ بہت اچھے اچھے کلام بھی ملتے ہیں بعض دوسرے شعراء کے بعض شعروں کا سہارا لے کر لوگ باتیں یاد کرواتے ہیں مثلا ابھی غالبار بوہ سے ہی ایک خط آیا تھا اور اس میں ڈاکٹر فہمیدہ کا ایک پرانا شعر لکھا ہوا تھا کہ اب ٹیلی ویژن پر آپ سے ملاقاتیں کر کے جہاں بہت سی سیرابی بھی ہوئی وہاں یہ تمنا پہلے سے بڑھ گئی کہ آپ جلد واپس آئیں اور وہ شعر یہ تھا۔گھر پر تالا پڑا ہے مدت سے اُسے کہہ دو کہ اپنے گھر آئے اس شعر میں جو فصاحت و بلاغت ہے وہ اس کی سادگی میں ہے اور آخری مصرعہ میں جو حکم کا انداز پایا جاتا ہے جیسے کوئی بڑی بوڑھی ماں بچے کو کہتی ہے کہ چلو گھر واپس آؤ دیر ہوگئی ہے اب اس کو کہو کہ واپس آئے یہ جوانداز ہے یہ بڑوں، بوڑھوں والا ہے اور جذبات نو جوانوں والے ہیں اور اس کی آمیزش نے اس میں ایک خاص کیفیت پیدا کر دی جیسے مونالیزا کے چہرے پر ا یک کیفیت ہے جس کو کوئی بیان نہیں کر سکتا مگر جب یہ نظم چھپی تھی تو بڑی کثرت سے احمدیوں نے اس شعر کو اپناتے ہوئے اس شعر کی زبان میں اپنے جذبات کا اظہار کیا تھا تو بعض دفعہ سادگی بھی اعجاز بن جایا کرتی ہے ان کو تو میں نے لکھا یا اگر نہیں لکھا تو اب جواب بتا دیتا ہوں کہ اب تو دنیا میں کتنے گھر ہیں جنہوں نے تالے بھی نہیں تو ڑے بلکہ چوپٹ دروازے کر کے ہر جمعہ میرا انتظار کرتے ہیں اور ہر گھر میں آتا ہوں اب وہ زمانے تو گئے جب آپ کہا کرتے تھے کہ ، گھر میں تالا پڑا ہے مدت سے اب تالہ ٹوٹنے کے وقت آئے ہیں اور واقعہ یہ ہے کہ آج کی دنیا میں انگلی دنیا کی تصویریں