خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 925 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 925

خطبات طاہر جلد ۱۲ 925 خطبه جمعه ۳ دسمبر ۱۹۹۳ء معاشرے اور تمدن میں حصہ لینے کے نتیجے میں اتنا دور ہٹ چکی ہوتی ہیں کہ اسلامی معاشرے کا صحیح تصور ان کے ذہن میں نہیں رہتا اسلامی تمدن سے بھی پوری واقفیت ان کو نہیں رہتی۔چنانچہ بعض باتیں جو معیوب ہیں وہ ان کو معیوب دکھائی نہیں دیتیں۔وہ سمجھتی ہیں کچھ نہیں چلو ٹھیک تو ہے ساری دنیا اس طرح کر رہی ہے۔ہم کیوں نہ کریں، ہم کیوں پرانے زمانے کی عورتیں بن کر بیٹھی رہیں؟ تو ان دو قسموں کی عورتوں کے درمیان مختلف قسم کی منازل ہیں کوئی ایک طرف مائل ہے کوئی دوسری طرف مائل ہے۔کوئی ایک انتہاء کی طرف ہے کوئی دوسری انتہاء کی طرف ہے۔کچھ وہ لوگ ہیں جو درمیانی رہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔اس لئے ہر ایک کا رد عمل ایک نہیں ہوگا۔ہر چیز پر ہر ایک کا اپنا ایک رد عمل ہوگا۔ایک چیز تو میں پھر دوبارہ یاد دلانی چاہتا ہوں کہ میں نے یہ نصیحت کی تھی کہ رد عمل اس طرح نہ دکھائیں کہ وہ تقریب بالکل برباد ہو کے رہ جائے اور جو غیر ہیں ان پر بھی یہ اثر پڑے کہ ان کا بائیکاٹ ہو گیا ہے، ان کو ذلیل ورسوا کر دیا گیا ہے۔خوشی کے موقع پر ایک غم کی تقریب بن جائے یہ مناسب نہیں ہے جائز نہیں ہے۔آنحضرت ﷺ بھی اپنی ناپسندیدگی کا اظہار اس طرح فرمایا کرتے تھے کہ کم سے کم دل شکنی جو ہو سکتی ہے اس سے زیادہ نہ ہو بعض دفعہ ایک معیوب بات کے متعلق اظہار کرنا پڑتا ہے، ایک ناپسندیدگی بغیر بیان کے صرف اداؤں سے تو نہیں ہوتی بعض دفعہ بیان بھی ضروری ہوتا ہے۔اس سے کچھ دل شکنی بھی ہوتی ہے لیکن حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا طریق یہ تھا کہ اگر زبان سے کام لئے بغیر بات ہو جائے اور اس طرح کسی کی دل شکنی نہ ہوتو آنحضور ﷺہے یہی طریق اختیار فرمایا کرتے تھے۔پس عَبَسَ وَتَوَلَّى والے واقعہ میں یہی پاک نمونہ آپ سے ظاہر ہوا۔آنحضوری ایک کسی قبیلہ کے سردار سے محو گفتگو تھے تبلیغ ہو رہی تھی ، اس کو سمجھا رہے تھے کہ اسلام کیا چیز ہے اتنے میں ایک صحابی جو نا بینا تھے یعنی آنکھوں سے اندھے تھے مگر دل کے بینا۔وہ حاضر ہوئے اور ان کو پتا نہیں تھا کہ کون بیٹھا ہے اور کس طرح مصروف ہیں۔انہوں نے ایک دو بار دخل دیا اور اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ حضور کریم ﷺ نے زبان سے ناپسندیدگی کا اظہار نہیں کیا لیکن ماتھے پر بل پڑ گئے اور یہ ناپسندیدگی کا اظہار کم سے کم ضروری اظہار تھا۔اس مہمان کو بتانے کے لئے کہ تمہاری عزت افزائی کی خاطر میں یہ پسند نہیں کرتا کہ ہماری باتوں میں کوئی محل ہو