خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 924 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 924

خطبات طاہر جلد ۱۲ 924 خطبه جمعه ۳ / دسمبر ۱۹۹۳ء مسلسل ہیں وہ ایک اختتام نہیں ہے۔وہ آغاز ہے اور آغاز کے بعد پھر سارا سال اگلے اجتماع تک محنتیں جاری رہنی چاہئیں۔اب اصل مضمون کی طرف یعنی ذکر الہی کے مضمون کی طرف واپس آتے ہوئے یعنی ان آیات کریمہ کے حوالے سے واپس آتے ہوئے جن کی میں نے تلاوت کی ہے۔میں ایک اور بات کی وضاحت کرنی چاہتا ہوں جس کا تعلق لجنہ اماءاللہ ہی سے ہے۔گزشتہ ایک خطبے میں میں نے یہ نصیحت کی تھی کہ اپنے شادی بیاہ وغیرہ کے مواقع پر ایسی بدرسومات میں مبتلا نہ ہوں جو احمدیوں کو زیب نہیں دیتیں اور ایک دفعہ یہ بد رسومات آپ کی تقریبات میں رہ پا گئیں تو یہ بیماریاں ہمیشہ کے لئے چھٹ جائیں گی اور بڑھتی رہیں گی اور پھر آپ ان کا کوئی علاج نہیں کر سکیں گی۔بعض مثالیں میں نے دی تھیں اور بعض نصیحتیں کی تھیں۔اس سلسلے میں لجنہ کی طرف سے ایک معین سوال میرے سامنے رکھا گیا ہے وہ صدر لجنہ لھتی ہیں ایک جگہ کی کہ لاہور میں کراچی میں اور پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں اب روز مرہ یہ رواج بن گیا ہے کہ بیاہ شادی کے مواقع پر ہوٹلوں سے ٹھیکے کئے جاتے ہیں اور ہوٹلوں کے بہرے مردوں میں بھی اور عورتوں میں بھی انتظام سنبھالتے اور ان کو کئی دفعہ اندر داخل ہونا پڑتا ہے۔بعض دفعہ برتن لگانے کے لئے بعض دفعہ دیکھنے کے لئے اور کسی کھانے کی ضرورت ہے کہ نہیں غرض یہ کہ ان کا آنا جانا تو رہتا ہے۔انہوں نے لکھا ہے کہ بعض خواتین نے اس خطبے سے یہ تاثر لیا ہے کہ آئندہ اگر ایسا واقعہ کہیں ہوا تو وہ مخلصین جن تک میری آواز پہنچی ہے کہ قرآنی تعلیم کے پیش نظر ایسی جگہوں سے جہاں خدا تعالیٰ کے احکامات کی بے حرمتی ہو رہی ہواٹھ کر آجایا کریں۔وہ لکھتی ہیں کہ بعض ایسی خواتین نے یہ مطلب لیا ہے کہ اگر کوئی ہوٹل کا بہرہ کبھی اندر آیا تو اس وقت بھی سب کا فرض ہے کہ وہ اٹھ کر باہر چلی جائیں۔جہاں تک سب کے فرض کا تعلق ہے یہ فرض تو ہر شخص کے او پر مختلف شکل میں عمل دکھائے گا کیونکہ یہ فیصلہ کرنا کہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو قائم کردہ محرمات ہیں ان کے خلاف ہے کہ نہیں۔بعض صورتوں میں تو واضح ہوا کرتا ہے بعض صورتوں میں متشابہات سے تعلق رکھتا ہے۔یعنی بعض خواتین جن کا اپنا اخلاقی معیار بہت بلند ہے۔بعض دفعہ وہ چھوٹی باتوں پر بھی ناپسندیدگی کا اظہار کرتی ہیں سمجھتی ہیں کہ یہ مکروہ چیزیں ہیں جو ہمارے اندر نہیں ہونی چاہئیں۔بعض ایسی خواتین ہیں جو روزمرہ کے