خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 918
خطبات طاہر جلد ۱۲ 918 خطبه جمعه ۲۶ نومبر ۱۹۹۳ء مانگیں تب بھی ملتا ہے یہ مراد ہے۔یہ مرادنہیں کہ رحمن کے بندے ہو کر رحیم سے اپنا تعلق کاٹ لیتے ہیں بلکہ رحمانیت کی صفت میں ڈوب جاتے ہیں اس لئے اگر نہ بھی مانگیں تب بھی اللہ تعالیٰ ان کو دے دیتا ہے اور بعض دفعہ تو خود پتا ہی نہیں ہوتا کہ ہم نے مانگنا کیا ہے۔انسان کو چاروں طرف سے مختلف خطرات درپیش ہوتے ہیں۔ایسی حالت میں اس کو خطرات درپیش ہیں اس کو پتا ہی نہیں کہ کہاں سے، کس خطرے نے حملہ کرنا ہے، کہاں دشمن چھپا ہوا ہے، کل کی اسے خبر نہیں۔وہ مانگے گا کیسے؟ تو ذکر الہی کے تعلق میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک راز ، ایک بہت ہی قیمتی خزانہ عطا کر دیا کہ ضروری نہیں کہ تم مانگو تو تمہیں دیا جائے۔تم اللہ کے ذکر میں ڈوبے رہو، پھر تمہیں یہ بھی نہیں پتا ہوگا کہ کیا مانگنا ہے اور کب مانگنا ہے تب بھی اللہ تعالیٰ تمہیں دے رہا ہوگا۔پس دعا سے ذکر کا مضمون افضل ہے یہ بات بہر حال قطعی طور پر ثابت ہوتی ہے۔دوسرے جہاں جہاں بھی قرآن کریم میں دعا کا ذکر ملتا ہے وہاں ہر جگہ مانگنے کے معنوں میں نہیں۔وہاں پیار سے اللہ کے ذکر کے معنوں میں بھی دعا کا لفظ استعمال ہوا ہے جیسا کہ میں نے آپ کے سامنے آیت پڑھی تھی۔تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا یہاں جو مضمون ہے وہ عاشق کا مضمون بیان ہوا ہے۔یہ نہیں کہ آنکھ کھلتے ہی مانگنے لگ جاتے ہیں کہ اے اللہ میاں یہ بھی دے، وہ بھی دے۔مراد یہ ہے کہ اللہ کی محبت میں آنکھیں کھلتی ہیں۔کروٹیں بدلتے ہوئے بستروں سے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ان کے پہلو آرام گاہوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔وہ اللہ کو پکارتے ہوئے اٹھتے ہیں۔دعا کا معنی صرف مانگنا نہیں پکارنا بھی ہے اور یہ اعلی معنی ہے پس ذکر اور دعا یہاں ایک ہی جگہ اکٹھے ہو جاتے ہیں۔آنحضور صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم فرماتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس نے میرے دوست سے دشمنی کی میں اس سے اعلان جنگ کرتا ہوں میرا بندہ جتنا میرا قرب، اس چیز سے جو مجھے پسند ہے اور میں نے اس پر فرض کر دی ہے، حاصل کر سکتا ہے اتنا کسی اور چیز سے حاصل نہیں کر سکتا۔اس میں ذکر کے تمام جھوٹے طریقوں کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا گیا۔اللہ فرماتا ہے کہ میں کسی سے محبت اس لئے نہیں کرتا کہ وہ میرا نام لیتا رہتا ہے میں سب سے زیادہ محبت اس شخص سے کرتا ہوں جو سب سے زیادہ میرے احکامات کی پیروی کرتا ہے۔شریعت پر چلنے والا ہے۔وہ شریعت جو میں نے محمد ﷺ کو عطا کی جو حمد ﷺ کی سنت بن گئی وہی سچا ذکر ہے اسی