خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 917 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 917

خطبات طاہر جلد ۱۲ 917 خطبه جمعه ۲۶ نومبر ۱۹۹۳ء سوال کی حاجت نہیں رکھتا۔تو ایسے شخص کو اگر آپ نے ہر سوال کرنے والے سے افضل قرار دیا تو تمام انبیاء سے اس کو افضل ماننا پڑے گا کیونکہ قرآن کریم نے ہر نبی کے ذکر میں اس کی دعا لکھی ہوئی ہے۔پس سب سے زیادہ دعا کرنے والے اور خدا سے طلب کرنے والے حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم تھے۔اس لئے جب اس قسم کی حدیثیں زیر بحث آئیں تو ان کو ٹوٹکے نہیں بنانا چاہئے۔ان سے ایسے نتیجے نہیں اخذ کرنے چاہئیں جو قرآن اور سنت انبیاء کے خلاف ہوں۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ ایسا شخص جو ذکر الہی میں ایسا ڈوب جاتا ہے کہ اس وقت اس کیفیت سے نکل کر کچھ مانگنے کودل نہیں چاہ رہاہوتا اور یا دوسرے معنوں میں یہ کہنا چاہئے کہ وہ شخص جو ہر وقت ذکر الہی میں ڈوبا رہتا ہے خواہ وہ سوال کرے یا نہ کرے اللہ اس کا نگران بن جاتا ہے لیکن یہ مراد نہیں ہے کہ یہ حدیث دعا کرنے کے خلاف ہے۔قرآن کریم دعا کے مضمون سے بھرا پڑا ہے۔دعا کے بغیر تو اللہ کی چوکھٹ تک رسائی ممکن نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَيٌّ لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان: ۷۸) کہ ان سے کہہ دے اللہ کو تمہاری کیا پر واہ ہے اگر تمہاری دعا نہ ہو۔پس دعا کے مضمون کے یہ حدیث مخالف نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ ذکر الہی محبت کے نتیجے میں ان کی زندگی پر چھا جاتا ہے اور ایسی کیفیت میں اگر ان کو دعا کا وقت میسر نہ بھی آئے اور دعا کی طرف ان کی واضح توجہ نہ بھی پھرے تب بھی اللہ کے ہاں وہ محفوظ لوگ ہیں۔اللہ خودان کی نگرانی کرتا ہے خودان کی حاجت روائی فرماتا ہے۔اس حدیث کے اسی مضمون کے متعلق ایک اور حدیث بخاری کتاب الرقاق باب التواضع میں ہے۔حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی فرماتا ہے جس نے میرے دوست سے دشمنی کی میں اس سے اعلان جنگ کرتا ہوں یہاں دعا کے بغیر ہی خدا کے تعلق کی ایک دائمی کیفیت بیان ہو رہی ہے جو ذکر الہی میں مصروف رہتا ہے وہ دوست بن جاتا ہے اور جب دوست ہو جائے تو ضروری تو نہیں ہوا کرتا کہ دوست مانگے تو دواس کا تعلق رحمانیت سے ہو جاتا ہے۔چنانچہ عباد الرحمن کا جو مضمون قرآن کریم میں بیان ہوا ہے یہ وہی ہے جو احادیث میں بیان ہو رہا ہے کہ یہ لوگ رحمن خدا کے بندے بن جائیں وہ مانگیں تو ضرور ملتا ہے اور بھی ملتا ہے۔لیکن نہ