خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 916 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 916

خطبات طاہر جلد ۱۲ 916 خطبه جمعه ۲۶ نومبر ۱۹۹۳ء سے معمور ہو گیا۔(سورہ مزمل جہاں کچھ نہ کرسکی وہاں ”تن کان“ نے اس کے وجود میں اک زلزلہ برپا کر دیا) یہ کیفیت اس ذکر الہی کی ہے جو ان علماء اور بعض دوسرے لوگوں کی بدقسمتی سے اب مسلمانوں میں رواج پا رہا ہے۔اب میں ذکر کے مثبت پہلو آپ کے سامنے پیش کرنا شروع کرتا ہوں۔رسالہ الخورشید یہ میں لکھا ہے۔قیل ذکر الله با القلب سيف المريدين دل کا جو ذکر ہے یہ دراصل مریدوں کی تلوار ہوتی ہے اور ہر غیر اللہ سے ہر بدی سے دل کا ذکر انسان کی حفاظت کرتا ہے۔حضرت سید عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث پیش کر کے اس پر بہت عمدہ تبصرہ فرمایا ہے۔وہ حد بیث یہ ہے۔کہ وہ شخص جس کو میرا ذکر مجھ سے سوال کرنے سے منع کر دے یعنی مراد یہ ہے کہ ذکر میں ایسا مشغول ہو کہ دست سوال دراز کرنے کا اس کے لئے موقع ہی نہ رہے۔اللہ کی یا داور محبت میں ایسا کھویا گیا ہے کہ وہ سوال کرنا ایک معمولی بات اور بے معنی بات سمجھتا ہے۔اس حد تک اللہ کی یاد اس پر غالب آجاتی ہے کہ ایسے شخص کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں اس کو اس سے بہت زیادہ دیتا ہوں جتنا سوال کرنے والے کو دیتا ہوں۔یعنی بعض لوگ جو مجسم ذکر الہی بن جاتے ہیں ان کے دل کی ہر دھڑکن ، ان کی ہر خواہش دعا بن جایا کرتی ہے اور دعا اور ذکر میں یہ فرق ہے۔اس فرق کو خاص طور پر پیش نظر رکھنا چاہئے کہ ذکر ہے محبوب کی یاد اور وہ خالصہ محبت سے تعلق رکھنے والی بات ہے اور سوال سے مراد یہ ہے کہ اپنے قریبی پر جس پر اعتماد ہو، جس پر انسان کو یہ بھر وسہ ہو کہ ہاں میرا قریبی ہے اس کے پاس انسان مشکل کے وقت جائے اور کہے کہ اب میری ضرورت پوری کرو اور ایک شخص ایسا بھی ہے جو محبت میں ایسا غرق ہو جاتا ہے کہ کسی چیز کو مانگنے سے عار کرتا ہے، عار رکھتا ہے یا سمجھتا ہے کہ محبت کے اعلیٰ آداب کے خلاف ہے کہ میں مانگوں۔ایسی سوچ وقتی طور پر تو درست قرار دی جاسکتی ہے اور فائدہ بھی ہوتا ہے لیکن یہ کہنا کہ یہ اعلی درجہ کا تعلق ہے یہ بھی درست نہیں ہے۔صوفیانہ ٹوٹکے کے طور پر آپ کہہ سکتے ہیں کہ دیکھو اس نے عشق میں ترقی کر لی ہے کہ اب یہ