خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 912 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 912

خطبات طاہر جلد ۱۲ 912 خطبه جمعه ۲۶ نومبر ۱۹۹۳ء کے حلقوں میں موسیقی کو کوئی جگہ نہیں ہے۔عام طور پر سبز رنگ کی پگڑی پہنتے ہیں اور لباس کا کوئی نہ کوئی حصہ بادامی رنگ کا ہوتا ہے۔درود شریف کو اہمیت دیتے ہیں ان کے ہاں ذکر خفی اور ذکر جلی دونوں جائز ہیں۔پس اس پہلو سے جہاں تک یہ باتیں ہیں ان میں کوئی بھی قابل اعتراض بات نہیں ہے یہ عین سنت کے مطابق ہے۔حضرت عبد القادر جیلانی کا پاک اثر ہے کہ بہت دیر تک یہ فرقہ ان بدعات سے بچا رہا جو دیگر صوفی فرقوں میں جا پا گئیں لیکن بعد کے زمانے کے مولویوں نے اس فرقے کی طرف اور ان کے فلسفے کی طرف ایسی ایسی باتیں منسوب کر دیں کہ اس سے یہ فرقہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ توحید سے شروع ہو کر شرک پر جا پہنچا اور اس پاک اور شفاف پانی کو بھی گندے پانی میں تبدیل کر دیا گیا۔اس کی مثالیں میں آخر پر آپ کے سامنے رکھوں گا۔سہروردیہ فرقہ بھی صوفیاء کے ان چارا ہم بنیادی فرقوں میں سے ایک ہے۔ان کے ہاں ذکر ہی چلتا ہے لیکن ایک خاص طریق انہوں نے یہ اختیار کیا ہے کہ سانس بند کر کے ہو کا ورد کرتے ہیں۔یعنی لا اله الا اللہ اور وہاں تک دم روک لیا اور جب پورے زور کے ساتھ سانس نکلتا ہے ہو کی آواز اٹھتی ہے تو یہ پھر ہو کے ذریعے گویا خدا تعالیٰ کی ذات واحد پر زور دیتے ہیں۔اس طرح ہو کا رواج دینے میں غالباً ہندوستان کے سادہ لوح لوگوں کے لئے ایک خاص کشش ہوگی کیونکہ اکٹھی ہو کی آواز جب ایک جماعت سے نکلے تو لازماً اثر تو ہوتا ہے مگر یہ فرقہ یہیں تک محدود ہو گیا یعنی اللہ تعالیٰ کی باقی صفات پر غور کرنا۔ان سے استفادہ کرنا، ان کو اپنے دل پر نقش کرنا یہ ساری باتیں تو ایک طرف رہ گئیں بس ہو ہی ہو باقی رہ گیا۔قادیان میں مجھے یاد ہے وہ دوست غالباً اسی فرقے کے تھے جن کو ہم ”بابا ہی“ کہا کرتے تھے ہو کی بجائے ان کی آواز ہی نکلا کرتی تھی اور بعض لوگ کہتے تھے کہ اصل میں چھینک آتی تھی تو اس کی وجہ سے ہی نکلتی تھی مگر بعض سمجھتے تھے کہ نہیں یہ ہو ہی ہے۔اللہ کا ذکر کر رہے ہیں مگر ” ہو“ والی آواز میں نے سنی ہوئی ہے جب یہ رکا ہوا دم ایک دم چھٹتا ہے تو بڑے زور سے ہو کی آواز اٹھتی ہے لیکن اس فرقے میں ویسے عام طور پر کوئی بد رسمیں داخل نہیں ہوئیں۔سماع سے بے اعتنائی کرتے ہیں۔نغموں وغیرہ کے ذریعے ذکر کو پسند نہیں کرتے اور تلاوت قرآن کریم پر زور دیتے ہیں جو ایک بہت اچھی بات ہے۔اب میں بعض دوسرے غیر صوفی فرقوں کی مثال دیتا ہوں۔ان میں آغا خانی کا طریق ذکر