خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 906
خطبات طاہر جلد ۱۲ 906 خطبه جمعه ۲۶ نومبر ۱۹۹۳ء ذکر الہی نماز میں تب نصیب ہوگا اگر پہلے اپنے دل کو فحشاء اور منکر سے پاک کر لیں۔یہ وہ مضمون ہے جس کی بہت زیادہ اہمیت ہے اور اسے خوب غور سے سمجھ کر پھر نماز کو قائم کرنا چاہئے۔اب آپ دیکھیں کہ اگر نماز پڑھتے وقت ایک انسان کا قلبی تعلق بے ہودہ باتوں سے جڑا رہا ہو۔وہ کہیں سے دامن چھڑا کر آیا ہے لیکن دل و ہیں اٹکا ہوا ہے تو عبادت میں ذکر الہی کیسے قائم ہوسکتا ہے۔چند فقرے منہ سے وہ نکالے گا تو پھر ذہن ان چیزوں کی طرف لوٹ جائے گا جہاں دل اٹکا پڑا ہے۔کہیں پیاروں کی یاد آئے گی، کہیں تجارت کے مسائل اس کے ذہن کو اپنی طرف کھینچ لیں گے، کہیں کوئی ٹیلی ویژن کے پروگرام اس کو اپنی طرف مائل کرلیں گے، کہیں کوئی کھیلیں یا اور دلچسپیوں کے مشاغل، سیر و تفریح کی باتیں اسے اپنی طرف مائل کرلیں گی اور کھینچ لیں گی۔تو ذکر الہی کا بیچارے کو کہاں سے موقع ملے گا۔ذکر الہی کا مضمون تو یہ ہے کہ ہر حالت میں انسان کا دماغ اس حالت سے چھلانگ لگا کر اللہ کے ذکر کی طرف مائل ہو جائے اور قرآن کریم نے ذکر کا مضمون اسی طرح بیان فرمایا ہے۔الَّذِيْنَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيمًا وَقُعُودًا وَ عَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ (ال عمران : ۱۹۲) وہ زمین و آسمان کو دیکھتے ہیں اس کی سیر کرتے ہیں اس کے حسن سے لذت یاب ہوتے ہیں لیکن اس طرح کہ ذہن ان چیزوں کو دیکھ کر خدا کی طرف دوڑتا ہے اور دل اللہ کی طرف اچھلتا ہے اور ہر بات سے ان کو اللہ یاد آنے لگ جاتا ہے۔پھر راتوں کو سوتے ہوؤں کا نقشہ یہ کھینچا۔تتجافى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا (السجدہ: ۱۷) کہ ان کے پہلو نیند کی لذتوں کے باوجود بستروں سے الگ ہو جاتے ہیں۔کس حالت میں الگ ہوتے ہیں يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا اپنے رب کو وہ پکار رہے ہوتے ہیں، خوف کے ساتھ بھی اور طمع کے ساتھ بھی۔تو ذکر الہی ساری زندگی پر حاوی ضرور ہے لیکن مراد یہ ہے کہ زندگی کا ہر شغل، زندگی کا ہر مشغلہ، زندگی کی ہر دلچسپی اللہ کی طرف ذہن کو مائل کر دے اور دل اس طرح اس طرف اچھلے جس طرح بچہ ماں کی چھاتیوں کی طرف دودھ کے لئے اچھلتا ہے لیکن یہ مراد نہیں ہے کہ یہاں ذکر ختم ہو جائے گا اور