خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 905 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 905

خطبات طاہر جلد ۱۲ 905 خطبه جمعه ۲۶ نومبر ۱۹۹۳ء فحشاء سے روکتی ہے اور منکر سے روکتی ہے۔اب یہ دو منفی صفات ہیں جن کا ذکر ہے اگر یہیں بات ختم سمجھی جائے اور نماز کے علاوہ کسی اور بات کا ذکر شروع ہو جائے تو گویا نماز کا مقصد صرف بعض چیزوں سے روکنا ہے بعض فوائد عطا کرنا نہیں ہے۔یہ غلط فہمی پیدا ہونی ہی نہیں چاہئے کیونکہ قرآن کے بیان کا انداز یہ ہے کہ نماز فحشاء سے روکتی ،منکر سے روکتی ہے۔وَلَذِكْرُ اللهِ اَكْبَرُ لیکن سب سے بڑا فائدہ نماز کا یہ ہے کہ تمہیں ذکر عطا کرتی ہے اور ذکر ان سب چیزوں سے بڑا ہے۔اس میں ایسی ترتیب ہے جس کا تعلق اسی مضمون سے ہے جو میں پہلے بیان کرتا آیا ہوں یعنی پہلے تبتل الی اللہ ہوتا ہے پھر ذکر چلتا ہے۔فحشاء کے ساتھ اگر تعلق جڑا رہے اور ناپسندیدہ باتیں دل میں جمی رہیں تو پھر ذکر اللہ کا کیا سوال پیدا ہو گا ؟ پس فرمایا کہ نماز پہلے تمہیں پاک صاف کرتی ہے تمہارے زنگ دھوتی ہے جس طرح قلعی گر کو برتن دیئے جاتے ہیں تو پہلے وہ تیزاب سے اس کے گندا تارتا ہے اور جب وہ اس قابل ہو جائیں کہ قلعی کو قبول کریں تو پھر قلعی کا رنگ جمایا جاتا ہے۔پس یہ قرآن کریم کا طرز بیان ہے اس سے یہ معنی نکالنا کہ گویا نماز کے ذکر کو چھوڑ کر نماز سے باہر کے ذکر کی بات شروع ہوگئی ہے اور وَلَذِكْرُ اللهِ أكبر کہہ کر بیان فرمایا کہ نماز تو بری باتوں سے روکے گی لیکن جب نماز سے فارغ ہو جاؤ گے اور پھر ذکر کرو گے تو وہ بہت بڑی بات ہے۔قرآن کریم کی جو آیات میں نے آپ کے سامنے پڑھ کر سنائی ہیں ان میں بھی یہی مضمون ہے کہ ذکر کا تعلق نماز سے ہے۔حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا يُوحَى تجھے میں نے چن لیا ہے۔پس غور سے اس بات کو سن جو تجھ پر وحی کی جارہی ہے۔لا إِنَّنِي أَنَا اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي وَأَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكْرِى یقیناً میں ہی وہ خدا ہوں جو ایک ہی ہے "لَا اِلهَ اِلَّا آنا ، میرے سوا اور کوئی خدا نہیں کوئی معبود نہیں ” فَاعْبُدنی پس میری عبادت کر۔وَاَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكْرِی اور نماز کو ،، قائم کر۔میری عبادت کر اور نماز کو میرے ذکر کے لئے قائم کر۔پس عبادت کا تو مقصد ہی ذکر کا قیام ہے اور اگر ذکر نہ ہو تو عبادت ایک خالی کھوکھلا برتن رہ جاتا ہے۔پس وَلَذِكْرُ اللهِ اَكْبَرُ کا تعلق قیام صلوۃ سے ہے اور جملہ عبادات سے ہے لیکن