خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 5 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 5

خطبات طاہر جلد ۱۲ 5 خطبہ جمعہ ارجنوری ۱۹۹۳ء خیال آیا کہ میں بھی اس موقع پر بیعت کر لوں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ فرشتوں کی تحریک تھی کوئی اتفاقی خیال نہیں تھا۔ہمارا گزشتہ سال اس بیعت سے سج گیا ہے اس کے سر پر ایک تاج رکھا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ ساری دنیا کی جماعت تجدید بیعت کے ذریعہ اب وفاؤں اور خدمتوں کے ایک نئے دور میں داخل ہورہی ہے کیونکہ ہر جگہ جماعت بیعت میں شامل تھی۔یہ اس بیعت کی تعبیر ہے اور میں سمجھ رہا ہوں کہ آئندہ پھر بیعتیں انشاء اللہ اسی طرح ہوا کریں گی کہ ایک جگہ جب کسی جلسہ میں بیعت ہو رہی ہو گی تو لاکھوں بیعتیں دنیا میں ساتھ ہو رہی ہوں گی اور وہ جو کروڑ کا تصور میں نے پیش کیا تھا اب وہ دور کی خواب و خیال اور خواہش کی بات نہیں رہی میں سمجھتا ہوں کہ اس کا وقت قریب آ رہا ہے کیونکہ جلسوں میں جو شریک ہوتے ہیں خواہ وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم یا خطبوں میں جو شریک ہوتے ہیں خواہ وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم، ان کے متعلق پہلے دوسرے لکھتے ہیں پھر وہ خود خط لکھنے لگ جاتے ہیں اور آج کل تو تقریباً روز مرہ ڈاک میں ایسے خط نکلتے ہیں کہ ہمیں ایک احمدی دوست لے آئے تھے ہم مسلمان تھے لیکن احمدی نہیں تھے بلکہ بعض سخت نفرتوں کا شکار تھے اور ایک جمعہ میں ہی آکر کا یا پلیٹ گئی۔اب ہم نے وہ کچھ دیکھا ہے جو سنی سنائی باتوں کے بالکل برعکس ہے۔کان اور سنتے تھے، آنکھیں اور دیکھتی ہیں اور اب کان بھی اور سننے لگ گئے ہیں۔اس قسم کے تاثرات مسلمانوں کی طرف سے ہی نہیں ہندوؤں کی طرف سے بھی سکھوں کی طرف سے بھی اور انگریزوں یا یورپینز کی طرف سے بھی آنے شروع ہوئے ہیں اور بعض بیعتوں کے قریب پہنچ گئے ، بعض نے اس شمولیت کی وجہ سے بیعتیں کر لیں۔تو جوں جوں یہ سلسلہ پھیلے گا جماعت سے باہر سننے والوں کی تعداد میں بھی خدا گا کے فضل سے نمایاں اضافہ ہوگا کیونکہ بعض جگہ سے تو یہ بھی اطلاع ملی کہ ایک غریب احمدی کو ڈش انٹینا لگانے کی توفیق نہیں تھی اس کے امیر ہمسائے کو جو غیر احمدی تھا جب پتا چلا تو اس نے انٹینا لگایا اور کہا کہ اپنے محلے کے سارے احمدیوں کو کہو کہ میرے گھر آکر سنا کریں اور وہ سارے مل کر اب سنتے ہیں اور دیکھتے ہیں تو اس لئے یہ جو گزشتہ سال ہے یہ خدا کے فضل سے واقعہ جماعت احمدیہ کے لئے ایسی خوشخبریاں نہیں لایا جو یا د میں بن کر ماضی میں رہ جاتی ہیں بلکہ ایسی خوشخبریوں کے پیغام لایا ہے جو مستقبل میں ہمارے آگے آگے نور کی طرح بھاگیں گی اور ہمیں تیز قدم چلنے کے اشارے کرتے ہوئے اور آگے بڑھیں گی اور اس طرح احمدیت کا یہ قافلہ شاہراہ ترقی اسلام پر خدائے واحد و یگانہ کی