خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 884
خطبات طاہر جلد ۱۲ 884 خطبہ جمعہ ۱۹ نومبر ۱۹۹۳ء یہ ایک نیا انداز اختیار کیا ہے انہوں نے ، جو برانہیں کہ اپنے اجتماعات کا ایک عنوان بھی رکھ لیا ہے، جو خصوصیت کے ساتھ اس موضوع پر تقریریں ہوں گی یا نیک نمونے دکھائے جائیں گے۔جماعت ہائے احمد یہ ہندوستان بھی ۲۱ نومبر کو دوسرا نیشنل یوم تبلیغ منارہی ہیں۔مکرم ناظر صاحب دعوت و تبلیغ نے خصوصیت سے اس موقع پر کچھ کہنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔چونکہ ذکر کا مضمون چل رہا ہے اس لئے ذکر کے حوالے سے جو صیحتیں ہوں گی وہ ساری آپ سب کو جن کا میں نے نام لیا ہے اسی طرح ہیں جس طرح باقی دنیا کی جماعتوں کو ہیں۔لیکن ان مواقع پر جبکہ مختلف لوگ مرد و خواتین اکٹھے ہوں گے تو خصوصیت سے ذکر سے متعلق ان کو تربیت دینا بھی آپ کا فرض ہے۔یعنی ذکر کا مضمون سن کر جو طبیعتوں میں طبعی طور ایک پر شوق پیدا ہوگا۔دلوں میں ہیجان پیدا ہوں گے۔ان کو طریقہ سکھانا اور یہ بتانا کہ کس طرح ذکر کے مضمون کو آپ بعد میں جاری رکھیں اور۔آگے جا کے دوسروں کو بھی سمجھا ئیں۔یہ موضوع ان اجتماعات کا خاص طور پر مقرر کر لیں۔علاوہ ازیں میں جماعت پنجم کے متعلق میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اللہ کے فضل کے ساتھ بہت ترقی کرنے والی جماعت ہے، بہت منظم ہے، امیر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کو ایسے عطا ہوئے ہیں جو نیک، دعا گو، پاک باطن اور ذاتیات سے بالکل الگ محض لله وقف ہیں اور اب اللہ کے فضل سے جماعت پنجم کو ایسے خدمت کرنے والے بھی عطا ہو گئے ہیں جو امیر کے رنگ میں رنگین ہیں اور اس کے نتیجے میں وہ کوششیں جو پہلے پھل نہیں لایا کرتی تھیں اب اچانک شمر دار ہو گئی ہیں۔اصل میں امیر صرف اکیلا کافی نہیں۔اس کے ساتھ اس کے متبعین بھی متقی ہونے چاہئیں اور جب دونوں اکٹھے ہو جائیں، تقویٰ کے مضمون پر اکٹھے ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ کھیتیاں جو بظاہر ٹھیک ٹھاک دکھائی دیتی ہیں مگر پھل نہیں دیتیں وہ اچانک پھل دار ہو جاتیں ہیں۔تو جہاں جہاں بھی میں نے غور کر کے دیکھا ہے جماعتیں ثمر دار بنی ہیں وہاں ان دونوں باتوں کا دخل ہے۔تبھی اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ دعا سکھائی ہے۔وَ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا ( الفرقان: ۷۵) امامت کے بغیر تو دنیا میں کوئی نظام بھی نہیں چل سکتا۔لیکن شرط یہ بیان فرما دی۔متقی پیچھے چلنے والے ہوں گے تو پھر امامت کی برکت سے وہ فائدہ اٹھا سکیں گے یا امامت ان کے تعاون سے ثمر دار ہو جائے گی۔تو یہ دونوں باتیں بیک وقت ضروری ہیں۔پس اس پہلو سے جماعت احمدیہ کیئم کو خصوصیت سے میں یہ یاد دہانی کراتا