خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 877
خطبات طاہر جلد ۱۲ 877 خطبه جمعه ۱۲ نومبر ۱۹۹۳ء خطرناک ہے ہم کیا کریں اب ہمارا بس کوئی نہیں ہے۔ وہ یہ نہیں جانتی کہ ان کا بس تھا انہوں نے استعمال نہیں کیا بچپن سے اپنی اولاد کو غلط پیغام دیا ہے۔ بہانے تراشے ہیں اور حیا کے ساتھ اپنی عزت کی حفاظت نہیں کی اور بچے اس پیغام کو خوب سمجھتے ہیں اور جب وہ سمجھ لیتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اس پر چھوٹے موٹے بہانے کی بھی کیا ضرورت ہے۔ پھر نکلو دنیا میں آزادی کے ساتھ جو چاہو کرتے پھرو۔ پس عورتوں کا قوم کی تربیت میں بہت گہرا دخل ہے اور بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ ایسی اطلاعیں ملتی ہیں کہ جن سے پتا چلتا ہے کہ ہمارے بیاہ شادی کے موقعے پر تو بہت ہی زیادہ بے احتیاطیاں شروع ہو جاتی ہیں ۔ بعض دفعہ باراتیں آتی ہیں اور ایسے خاندانوں کی جن سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ تقویٰ کے اعلیٰ مقام پر ہوں لیکن ان گھروں میں باراتیں آتیں ہیں وہ بہانہ یہ بناتے ہیں کہ بارات تو ہمارے قبضے کی نہیں تھی۔ پوری بے پر دبارات اس میں غیر احمدی بھی بے پرد اور احمدی عورتیں بھی بے پر د اور مل جل کر اکٹھے ایک ہی ہال میں دعوتیں منائی جا رہی ہیں اور اگر کوئی اعتراض کرے تو اس سے وہ لڑتے ہیں اس سے جھگڑتے ہیں کہ تم کون ہوتے ہو ہمارے اندر دخل دینے والے۔ اس ضمن میں یہ بھی سمجھانا ضروری ہے کہ اعتراض اگر کریں گے تو پھر یہی سلوک ہوگا۔ قرآن کریم نے کہیں یہ نہیں فرمایا کہ جب تم معاشرے میں کوئی برائی دیکھو تو اعتراض کرو۔ یہ اعتراض بھی ایک خاص انداز کی بات ہے۔ یہ فرمایا ہے اسے دور کرو یعنی اول مقصد برائی کو دور کرنا ہے۔ جس انداز سے وہ دور ہو سکتی ہے وہی صحیح انداز ہے۔ اگر دور ہونے کی بجائے وہ بڑھ جائے یا بغاوت میں تبدیل ہو جائے تو قرآنی ہدایت کی خلاف ورزی کے نتیجے میں ایسا ہو گا۔ فرمایا اس کو دور کرو اور اگر دور کرنے کی طاقت نہیں ہے تو نصیحت کے ذریعے اسے روکنے کی کوشش کرو۔ پس نصیحت اور اعتراض میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ جب ایک انسان نصیحت کرتا ہے تو نصیحت کا انداز وہ کس سے سیکھے گا۔ معترضین سے؟ یا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے ؟ آنحضرت ﷺ کی نصیحت کے نتیجے میں کبھی کسی کو دھ کا نہیں لگا۔ آنحضور ﷺ کی نصیحت کے نتیجے میں کبھی کسی کی عزت نفس مجروح نہیں ہوئی بلکہ اس نصیحت میں پیار بھی پایا جاتا تھا اور در دبھی پایا جاتا تھا اور پھر حتی المقدور یہ احتیاط ہوتی تھی اس نصیحت کے نتیجے میں اس شخص کی دوسروں کے سامنے سبکی نہ ہو۔