خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 876
خطبات طاہر جلد ۱۲ 876 خطبه جمعه ۱۲/ نومبر ۱۹۹۳ء چاہئے اور روح کی حفاظت کرنی چاہئے۔جہاں پردہ بر فتنے کی صورت میں رائج ہو چکا وہاں بہت بڑا خطرے کا مقام ہے یہ کہہ کر کہ پردے کی روح تو ہم قائم رکھ رہی ہیں برقعے کی کیا ضرورت ہے۔انسان برقعے کو اتار پھینکے کیونکہ یہ بات بچی بھی ہو سکتی ہے جھوٹی بھی ہوسکتی ہے اور اکثر صورتوں میں جھوٹی ہوتی ہے۔وہ خواتین جو برقع اتار کے پھینکتی ہیں۔اگر ان کو واقعہ پردے کی روح پیاری ہو تو اپنی خاطر نہ ہی اپنی اولاد کی خاطر اس مصیبت کو کچھ دیر اور برداشت کر لیتی ہیں۔جانتی ہیں کہ یہ پردہ اس طرح ضروری نہیں جانتی ہیں کہ مجھ میں خدا تعالیٰ نے مجھے عفت عطا کی ہے مجھے حیا عطا کی ہے۔میں ہرگز کسی غیر کو نہ بری نظر سے دیکھتی ہوں نہ اس کی بری نظر کو دعوت دیتی ہوں۔پھر بھی وہ برقعے کو اس لئے جاری رکھتیں ہیں کہ ان کی آگے بچیاں ہیں کہیں وہ غلط پیغام نہ لے لیں۔عام طور پر وہی اتارتی ہیں جن کے سامنے بہانہ تو یہ ہوتا ہے کہ ہم روح کو قائم رکھ رہی ہیں آپ کون ہوتے ہیں اعتراض کرنے والے لیکن چونکہ خدا تعالیٰ کی نظر دل پر ہوتی ہے۔انما الاعمال بالنيات ( بخاری کتاب الوحی حدیث نمبر :1) اعمال کا فیصلہ نیتوں پر ہوتا ہے۔اس لئے حقیقت میں جو دل کی گہرائی کا فیصلہ ہے وہ یہ ہے کہ اس مصیبت سے نجات پانا چاہتے ہیں۔دنیا کہیں سے کہیں پہنچ گئی ہے ہم ابھی تک برقعوں میں بیٹھے ہوئے ہیں اور برقعوں سے نکل کر جود نیا دکھائی دیتی ہے وہ ان کو زینت دکھائی دیتی ہے، وہ دلکش دکھائی دیتی ہے اور جب وہ برقع پھینکتی ہیں تو وہیں ٹھہر تیں نہیں پھر اس دلکشی کی طرف ضرور حرکت کرتی ہیں۔ضرور قدم اٹھا تیں ہیں کہ اس زینت سے کچھ حصہ پالیس جس کے غیر مزے اڑا رہے ہیں۔یعنی ان کا قدم احمدی معاشرے سے غیر احمدی معاشرے کی طرف مسلم معاشرے سے غیر مسلم معاشرے کی طرف ضرور اٹھتا ہے۔اگر یہ اٹھ رہا ہے تو ان کے نفس کا بہانہ جھوٹا تھا۔انہوں نے پردے کی شکل نہیں بدلی پردے کو رد کیا ہے اور بیک وقت رد کرنے کی طاقت نہیں اس لئے رفتہ رفتہ منزل بہ منزل رد کرنا چاہتی ہیں۔پہلے چادر میں آئیں گی ، پھر چادر سرکے گی ، پھر چادر اٹھا کے پھینک دی جائے گی، پھر مکس پارٹیاں ہوں گی، پھر کلبوں میں جانا شروع ہوں گے۔اور ان کے دیکھتے دیکھتے ان کی بیٹیاں ان سے دس قدم اور آگے بھاگ رہی ہوں گی اور جب وہ ہاتھ سے نکلیں گی جب غیروں سے شادیاں کریں گی یا بغیر شادی کے بھاگ جائیں گی تو پھر وہ روتی ہوئی میرے پاس آئیں گی یا کسی اور کے پاس پہنچیں گی کہ دیکھو جی یہ معاشرہ کیسا زہریلا ہے کتنا