خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 84 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 84

خطبات طاہر جلد ۱۲ 84 خطبہ جمعہ ۲۹/ جنوری ۱۹۹۳ء معنوں میں جماعت احمدیہ کا رشتہ خدا کی طرف لے جانے والا رستہ ہے خدا کی خاطر مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔مختصر وقت کی وہ تحریکات جو چند سالوں پر محیط ہوتی ہیں ان کا ذکر کچھ عرصہ سے نہیں کیا گیا اور اسی کے نتیجہ میں جماعت کسی حد تک ان سے غافل بھی ہوئی کلیہ تو نہیں جیسا کہ میں حساب آپ کے سامنے رکھوں گا لیکن جن تحریکات کا بار بار ذکر نہ کیا جائے، یاد نہ دلائی جائیں ان سے عموماً غفلت ہونی شروع ہو جاتی ہے اور یہ غفلت زیادہ تر عہدیداروں سے ہوتی ہے۔میرا یہ بڑا وسیع تجربہ ہے کہ جماعت کے پاس جب بھی تحریک پہنچے جماعت ضرور بڑی مومنانہ شان کے ساتھ اس پر لبیک کہتی ہے اور کبھی بھی جماعت نے بحیثیت جماعت مایوس نہیں کیا پیغام پہنچانے والے سو جایا کرتے ہیں ان کو تھک کر نیند آجاتی ہے اس پہلو سے اللہ تعالیٰ نے جو یہ نیا نظام ہمیں عطا فرمایا ہے یہ انشاء اللہ بہت ہی برکتوں والے نتیجے پیدا کرے گا کیونکہ آواز در آواز بات پہنچنا اور بات ہے۔وسیلوں کے ذریعہ پیغام ملنا اور بات ہے اور جس نے تحریک کی ہو براہ راست اس کی زبان میں اس کے جذبات کے ساتھ اس کا منہ دیکھتے ہوئے بات سنتے ہوئے جو دل کی کیفیت ہے وہ اور ہی کیفیت ہوا کرتی ہے ناممکن ہے کہ سلسلہ در سلسلہ پیغام اسی قوت کے ساتھ لوگوں تک پہنچ سکے اور اسی گہرائی کے ساتھ دلوں پر اتر سکے جس طرح وہ شخص جو پیغام دینے والا ہے وہ خود پیغام دے اور اپنی زبان سے بات سنائے اور اس کے چہرے کے آثار بھی دکھائی دے رہے ہوں اور ایک ذاتی زندہ رابطہ اس سے قائم ہوا ہو۔اللہ کا فضل ہے کہ اب یہ رابطہ جو ہے یہ بڑھتا ہے اور بڑھ رہا ہے اور اس لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ جماعت کی مالی تحریکات میں بھی ایک عظیم انقلاب برپا ہوگا کیونکہ ہمارے دیہات کی ایک بہت بڑی تعداد ایسی ہے خواہ وہ ہند و پاکستان میں ہوں یا غانا میں ہوں یا نا یجیر یا میں یا کسی اور دوسرے ملک میں جہاں بات پہنچتے پہنچتے بہت مدہم پڑ جاتی ہے آواز کمزور ہو جاتی ہے اور بہت سے ایسے ہیں جہاں تک آواز پہنچتی ہی نہیں چنانچہ جب میں نے افریقہ میں پاکستان اور ہندوستان کی طرز پر مالی نظام جاری کرنے کا فیصلہ کیا تو شروع میں افریقہ کے یا جن ممالک میں یہ فیصلے ہو رہے تھے ان کے امراء نے اور عہدیداروں نے بڑی پریشانی کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں تو یہ چیز نہیں چل سکے گی ، ہم تو سال میں ایک دفعہ تحریک کرتے ہیں یا دو دفعہ اور وہ بھی