خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 875 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 875

خطبات طاہر جلد ۱۲ 875 خطبه جمعه ۱۲/ نومبر ۱۹۹۳ء جائے تو عرب میں کچھ اور رنگ کا ہے، انڈونیشیا میں اور رنگ کا ہے، مختلف ممالک میں اس کی شکلیں بدلتی رہتی ہیں۔انگلستان میں اور رنگ کا ہے، امریکہ میں اور رنگ کا اور جرمنی میں اور رنگ کا ہر جگہ رنگ بدلے ہیں۔لیکن سب سے اہم بات جس سے یہ معترض نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ان کے اپنے ملک میں بھی مختلف معاشروں میں اور اور رنگ کے پردے ہیں۔کھیتوں میں عورتیں جب اپنے خاوندوں یا بھائیوں وغیرہ کی روٹی لے کر جاتیں ہیں۔تو وہ کون سے برقعے پہن کے جاتی ہیں۔روز مرہ کھیتوں میں کام کرتی ہیں، دودھ بیچنے والیاں آتی ہیں اور اچھی شریف بیبیاں ہوتی ہیں۔لیکن باوجود اس کے کہ بہت سی احمدی جماعتوں میں وہی رواج ہیں جو کہ دیگر دیہات میں ہیں۔یہ اعتراض کرنے والے ان پر نہیں کرتے کیا اس وقت یہ ماڈرن ہو چکے ہوتے ہیں۔اصل میں ان کا ضمیر یہ گواہی دے رہا ہوتا ہے۔پردہ حالات کے مطابق ہوا کرتا ہے اور پردے کی ایک روح ہے۔اس روح کی حفاظت ضروری ہے۔پس کھیتوں میں کام کرنے والی اگر گھونگھٹ لیتی ہے اور اس حد تک لیتی ہے کہ راستے میں ٹھوکریں نہ کھاتی پھرے بلکہ اس کو رستہ دکھائی دے اور اپنے آپ کو اس حد تک ڈھانپ کر رکھتی ہے اور اس حد تک لجاجت سے چلتی ہے کہ اس کی حیا نمایاں ہو جاتی ہے۔اس کے بدن کے حسن سے باہر اس کی حیا دکھائی دینے لگتی ہے۔چنانچہ یہ جو کیفیت ہے یہ حقیقت میں پردہ ہے اور پردے کی حقیقی روح اس کے اندر داخل ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ بیان کرتے ہوئے اس ایک بیٹی کو جو حضرت موسیٰ کو یہ پیغام دینے کے لئے واپس آئی تھی کہ میرا باپ تجھے بلا رہا ہے۔اس کی چال کے متعلق فرمایا کہ عَلَی اسْتِحْيَاء وہ حیا کے ساتھ لچکتی ہوئی آئی تھی۔ایک لچک ہوتی ہے جو انسان اپنے حسن کو ظاہر کرنے کے لئے ، دکھانے کے لئے لوگوں کی نظروں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لئے ہوتی ہے۔ایک حیا کے نتیجے میں عورت جھولتی ہے اور اس کے بدن میں ایک لچک پیدا ہو جاتی ہے۔ان دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔جو شرما کر چلنے والی عورت ہے۔اس کی حیا اس کا پردہ بن جاتی ہے اور نظروں کو دھکا دیتی ہے کہ خبردار جو مجھے بری نظر سے دیکھا پس پردے کی روح کو سمجھنا