خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 874
خطبات طاہر جلد ۱۲ 874 خطبه جمعه ۱۲/ نومبر ۱۹۹۳ء دکھاوا ہی ہے ناں ایک اور پھر وہ چادر کندھے سے بھی اتر جاتی ہے۔مجھے بہت سے طعنے ملتے ہیں جماعت کی بعض پردہ دار خواتین کی طرف سے کہ آپ ان سے پردہ پوشی کر رہے ہیں۔ایک نے تو مجھے یہ بھی لکھا کہ لوگ کہتے ہیں کہ انگلستان جا کے آپ بہت ماڈرن ہو گئے ہیں اور بعض باتوں کی طرف اب عمداً توجہ نہیں دیتے حالانکہ یہ بات درست نہیں ہے۔جو بات درست ہے وہ میں آپ کو سمجھا تا ہوں۔کہ اس میں میرا قصور ہے تو کس حد تک ہے۔ذاتی طور پر میں سمجھتا ہوں کہ تربیت میں ڈنڈا نہیں چلا کرتا اور جب بھی چلتا ہے وقتی فائدہ دیتا ہے اور اس کے ساتھ نقصان بھی بہت پہنچا جاتا ہے۔تو شروع سے ہی میر اطبعی رجحان اس طرف ہے کہ تربیت میں اگر آپ ڈنڈا نہیں چلائیں گے تو پھر دوسرے طریق پر بہت محنت کرنی پڑے گی۔اور بار باران باتوں کو چھیڑ نا پڑے گا مختلف طریق پر جماعت کو سمجھانا پڑے گا، ایک دیکھنے والا یہ سمجھتا ہے کہ اس سے کیا فائدہ ہو رہا ہے اور بیماری پھر بھی دکھائی دے رہی ہے۔لیکن یہ اس کی کم نظری ہے۔ڈنڈے کی صفائی اول تو دل کی صفائی نہیں ہوا کرتی۔اس میں سرخمیدہ ہو سکتے ہیں لیکن ٹیٹر ھے مزاج سیدھے نہیں ہوا کرتے۔نصیحت کے اثرات کے تابع اگر چہ آہستہ اثر ہو یا تھوڑا اثر ہومگر ایسے اثرات پیدا ہوتے ہیں جو رفتہ رفتہ قوم کی سرشت بننے لگ جاتے ہیں۔اگر ایک سال میں ایسی بات نہ ہو دو میں نہ ہو دس میں نہ ہو۔ہمیں سال میں بھی نہ ہو۔تب بھی قرآنِ کریم کا یہ فیصلہ لازما سچا نکلتا ہے فَذَكِّرُ انْ نَفَعَتِ الذكرى (الاعلی : 10) اے محمد یہ تو نصیحت کر اور کرتا چلا جا اور ہم تجھے یقین دلاتے ہیں کہ نصیحت ضرور فائدہ مند ہوگی۔پس جہاں تک پردے کے متعلق نصیحت کا تعلق ہے۔میں نے خلافت کا آغاز ہی اس نصیحت سے کیا تھا اور لجنہ اماءاللہ کو نہیں بلکہ جلسہ سالانہ میں خواتین کے اجتماع کے موقعے پر ان کے جلسہ سالانہ پر پہلا خطاب ہی اس موضوع پر رکھا تھا اور اس کے بعد مسلسل مختلف وقتوں میں مختلف طریق پر سمجھانے کی کوشش کرتا رہا ہوں۔لجنات کے خطاب میں جرمنی میں بھی اور امریکہ میں بھی۔انگلستان میں بھی دوسرے خطبات میں بھی عورتوں کو نصیحت کرتا رہا ہوں کہ پردہ اگر برقع نہیں ہے تو کچھ تو ہے ناں۔جو کچھ ہے اس کی تو حفاظت کرو۔یہ درست ہے کہ ہر معاشرے میں ہر حالات میں بعینہ وہ برقع پردہ نہیں جو پاکستان میں رائج ہے یا ہندوستان میں رائج ہے۔اگر اسی کو بعینہ پردہ سمجھا