خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 83
خطبات طاہر جلد ۱۲ 83 خطبہ جمعہ ۲۹؍ جنوری ۱۹۹۳ء چالیس دن چھوڑ ، چالیس سال ، چالیس لاکھ سال تک بھی کوئی اس کی خاطر قرآن پڑھتا رہے جس نے خود قرآن نہیں پڑھا جس کو خود قرآن سے پیار نہیں ہوا اس کے لئے پڑھے جانے والے قرآن کی کوئی بھی حیثیت نہیں۔یہ وہ نظام ہے جس کو خدا تعالیٰ نے عالمی روحانی بینک کا یا بین العالم روحانی بنگ کا رکھا ہوا ہے اور اس مضمون کو خدا تعالیٰ مختلف رنگ میں ہمارے سامنے پھیر پھیر کر بیان فرماتا ہے اس آیت میں جو میں نے آپ کے سامنے پڑھی ہے اس میں فرمایا کہ موت سے پہلے جو کچھ خرچ کرنا ہے اور یا درکھو کہ موت کا وقت آئے گا تو ٹل نہیں سکے گا اور اس کے بعد تمہارا یہ کہنا بیکار ثابت ہو گا کہ کاش اے خدا تو ہمیں مہلت دیتا تو ہم کچھ کر لیتے اور اس حساب کو آج اس دنیا میں منتقل ہوا دیکھ لیتے۔یہ مضمون ہے جو معنی کے لحاظ سے اس میں شامل ہے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے جماعت احمدیہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے خدا کے ان خوش نصیب بندوں میں ہے جن کو اللہ تعالیٰ اس دنیا میں خرچ کی توفیق بخشتا ہے اور محض اللہ کی خاطر خرچ کرنے کی توفیق بخشتا ہے اور جو خرچ کرنے والے ہیں وہ خود اس حال میں اس دنیا سے گزرتے ہیں کہ ان کے خرچ کی تمنائیں باقی رہ جاتیں ہیں اور موت اس سے پہلے ان کو آن لیتی ہے ایسے لوگوں کے لئے جب یہ تحریک کی جاتی ہے کہ ان کی اولادیں ان کے نام پر خرچ کریں تو یہ کوئی نئی جاری کرنے والی رسم نہیں بلکہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی مصدقہ ایک نیک رسم ہے اور اس کے متعلق ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ نیکی کرنے والوں کی نیکیوں کو بعد میں جاری رکھنا اولاد کے حق میں بھی اچھا ہے اور ان کے حق میں بھی جو گزر چکے ہیں۔اب میں مالی تحریکات سے متعلق کچھ تفصیلات آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں جو مستقل مالی تحریکات ہیں ان کا ذکر تو سال بہ سال وقت مقررہ پر ہوتا رہتا ہے لیکن کچھ متفرق تحریکات ہیں جو کچھ عرصہ چلتی ہیں اور پھر مکمل ہو کر ماضی کا قصہ بن جاتی ہیں اور پھر ان کی جگہ نئی تحریکات لے لیتی ہیں جماعت احمدیہ کا یہ مالی نظام مضبوط ڈوریوں سے بٹے جانے والے ایک رستے کی سی شکل اختیار کر چکا ہے ایک تحریک ختم ہونے سے پہلے دوسری شروع ہو چکی ہوتی ہے اس کے ختم ہونے سے پہلے ایک اور شروع ہو چکی ہوتی ہے جس طرح مختلف ڈوریوں سے رسہ بٹا جاتا ہے تو ہر ڈوری کا سرا کسی نہ کسی جگہ پیچھے رہ جاتا ہے لیکن رسہ اسی طرح مضبوطی سے آگے بڑھتا چلا جاتا ہے اور ان