خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 865 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 865

خطبات طاہر جلد ۱۲ 865 خطبه جمعه ۱۲/ نومبر ۱۹۹۳ء اور چونکہ اور بھی بہت سے امور پر خطبات دینے ہوتے ہیں اس لئے ہو سکتا ہے کہ مجھے اس مضمون کو مختصر کرنا پڑے لیکن اختصار کے باوجود میرا خیال ہے ممکن ہے اگلے چھ ،سات یا شائد اس سے بھی زائد خطبات ذکر ہی کے مضمون پر چلیں گے اس مضمون میں داخل ہونے سے پہلے میں چند اعلانات کرنا چاہتا ہوں کیونکہ اب تو یہ با قاعدہ خطبوں کا ایک مستقل حصہ بن چکا ہے۔جہاں جہاں بھی اجتماعات ہو رہے ہوں ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ہمارے اجتماعات کا بھی اس خطبے میں ذکر خیر چلے اور اجتماعات کے حوالے سے کچھ نہ کچھ نصیحتیں بھی کی جائیں۔آ ج ۸، ۹ نومبر کو مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان کی مجلس شوری منعقد ہورہی ہے۔صدر صاحب جواب انصار میں جانے والے ہیں اور ان کی جگہ نئے صدر کا انتخاب ہو چکا ہے۔ان کی خواہش ہے کہ میرے اس دور میں ہی اس شوری میں میری شمولیت ہے چونکہ یہ آخری شمولیت ہوگی یہ لفظ تو انہوں نے نہیں کہے لیکن پس تحریر یہ دکھائی دے رہا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ اس آخری شوری میں ان کی شرکت ہے میں ضرور ذکر خیر کروں اور کچھ نصیحت کروں۔لجنہ اماءاللہ بہار کا صوبائی اجتماع ۱۳/ نومبر سے شروع ہو رہا ہے ۱۴ نومبر کو اختتام پذیر ہو گا۔لجنہ اماءاللہ آندھرا پردیش کا صوبائی اجتماع بھی ۱۳ اور ۱۴/ نومبر یعنی کل اور پرسوں منعقد ہوگا۔تحریک جدید کے سلسلے میں ایک اعلان بھی کرنا ہے اور پہلے میں وہ اعلان کر کے پھر دوبارہ اجتماعات کے مضمون کی طرف واپس آؤں گا۔مکرم وکیل المال صاحب نے مجھے توجہ دلائی ہے اور بالکل درست توجہ دلائی ہے۔اطفال اور ناصرات کو جو باقاعدہ اصطلاحی طور پر عمر میں چھوٹے ہیں یا ناصرہ کہلانے کی عمر سے چھوٹی ہیں، جو بچوں کی عمر میں ہیں یعنی ماں باپ کے زیر تربیت ہی رہتے ہیں، باقاعدہ کسی جماعت کے یا تنظیم کے سپرد نہیں ہوتے ان کو انصار اللہ کے سپر د کرنے کی بجائے تحریک جدید کے چندوں کے سلسلے میں ان کو لجنہ کے ہی سپر د کیا جائے۔مجھے یاد آ گیا ہے کہ پہلے بھی ایک دفعہ میں نے ایک خطبے میں یہی نصیحت کی تھی کہ وہ بچے جو ابھی اس عمر کو نہیں پہنچتے یا وہ اطفال الاحمدیہ کے نظام میں داخل نہیں ہوئے یا ناصرات کے نظام میں داخل نہیں ہوئے۔ان کی تربیت کا اول اور آخر فرض ماں باپ پر ہے اور سب سے زیادہ وہی ذمہ دار ہیں۔پس اس پہلو سے ماں باپ میں سے زیادہ ماؤں پر انحصار ہے تو یہ ان کا مشورہ درست ہے۔وہ جو پہلا اعلان تھا اس کو