خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 860
خطبات طاہر جلد ۱۲ 860 خطبه جمعه ۵ / نومبر ۱۹۹۳ء نہ ملے یہاں تک کہ Recognition ہی کوئی نہ ہو، کوئی پہنچانے ہی نہ تو اس کا دل لازماً خدا کی طرف دیکھے گا، خدا ہی کی طرف نظر رکھے گا اور اس کی ایک جزا اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ تمہارے اندر جو خفی بدیاں پلتی رہتی ہیں اللہ ان بدیوں کو نیکی کی اس ادا کے ذریعہ دور فرما دے گا۔فرمایا۔وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ الله ان سب باتوں سے واقف ہے جو تم کرتے ہو۔ط لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تم پر ان کو ہدایت دینا ان معنوں میں فرض نہیں ہے کہ زبر دستی ان کو ہدایت پہنچا کر چھوڑو ورنہ تم اپنا فرض ادا نہیں کر سکتے۔تمہارا کام ہے ہدایت پہنچاؤ اور بہترین رنگ میں پہنچانا تم نے اگر یہ کام مکمل کر دیا تو تمہارا فرض ختم ہو جاتا ہے۔وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ تشار حقیقت یہ ہے کہ انسان کا کام صرف پہنچانا ہی ہوتا ہے۔اصل ہدایت اللہ تعالیٰ عطا فر ما یا کرتا ہے۔آپ اچھی سے اچھی بات اچھے سے اچھے رنگ میں کسی کے سامنے پیش کر دیں۔اگر خدا اس مخاطب کو اس لائق نہ سمجھے کہ وہ ہدایت پا جائے تو آپ کی ساری باتیں بریکار جائیں گی۔ایک پتھر پر جتنی مرضی موسلا دھار بارش برسے، وہ بنجر کا بنجر رہے گا۔پس یہ خدا فیصلہ کرتا ہے کہ کون ہدایت سے فائدہ اٹھائے گا اور کون نہیں اٹھائے گا۔فرمایا : اے محمد ﷺ ! تیرا کام اتنا ہے کہ تو ان کو ہدایت دیتا چلا جا۔وَلكِنَّ اللهَ يَهْدِى مَنْ تَشَاءُ اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا ہدایت عطا فرمائے گا وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ یاد رکھو تم ان نصیحتوں پر عمل کرتے ہوئے جو خرچ کرتے ہو یا خرچ کرو گے تو عملاً خدا کو فائدہ نہیں پہنچا رہے۔خدا پر احسان نہیں رکھ رہے، لِانْفُسِكُمُ امر واقعہ یہ ہے کہ یہ ہر حال میں تمہارے اپنے لئے ہی ہے۔اس میں یہ مضمون بھی بیان ہو گیا ہے کہ جب تم کسی غریب کو بھی دیتے ہو تو یہ نہ سمجھا کرو کہ تم نے بڑا بھاری احسان کر دیا ہے کہ اس کی ضرورت پوری کی۔خدا نے جو یہ وعدہ فرما دیا کہ جب تم غریب کو دو گے اس کے بدلے تمہاری برائیاں دور کی جائیں گی تو عملاً تم نے اپنے اوپر احسان کیا ہے۔غریب کی تو ایک مادی ضرورت پوری ہوئی ہے تمہاری ایک روحانی اور دائی ضرورت پوری کی گئی ہے۔پس اس پہلو سے دیکھو تو خدا کا احسان ہے کہ اس نے اس نیکی کو قبول فرما لیا ہے اور اس کے نتیجہ میں تم نے غریب کو جتنا فائدہ پہنچایا اس سے بڑھ کر اپنی جان کو پہنچایا۔جماعت کا چندہ دیا ہے تو تب