خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 82
خطبات طاہر جلد ۱۲ 88 82 خطبہ جمعہ ۲۹ جنوری ۱۹۹۳ء بہت بڑھا کر اسی دنیا میں واپس کر دیا لیکن جو حساب ہے اُسے بھی قائم رکھا اور آخرت پر اس حساب کو ٹال رکھا ہے فرمایا کہ یہاں جو ہم تمہیں دیتے ہیں یہ تو صرف نیکی کا ایک مزہ چکھانے کی خاطر ہے جو قرض واپس ہو گا وہ آخرت میں ہوگا اس لئے قرآن کریم میں جگہ جگہ یہ مضمون ملتا ہے کہ وہ لوگ جو اس دنیا میں کوئی نیکی نہ کما سکے بلکہ بدیوں کے انبار سر پر لا دے ہوئے اس دنیا سے چلے گئے ان کو خدا تعالیٰ یہ فرمائے گا کہ اب خرچ کا کوئی وقت نہیں اب اگر تم سونے کے پہاڑ بھی لے آؤ ، دولت کی زمین جیسی بھری ہوئی وادیاں اور اس سے بھی بڑھ کر جو کچھ زمین اور آسمان میں ہے سب کچھ خرچ کرنے کا ادعا بھی کرو تو تب بھی وہ قبول نہیں ہوگا۔ظاہر ہے کہ ان کے پاس تو وہاں کچھ بھی نہیں ہوگا ان کے پاس ایک کوڑی بھی نہیں ہوگی کیونکہ جو آگے بھیجنے والے ہیں وہ بھی اور جو نہ بھیجنے والے ہیں وہ بھی مُلكِ يَوْمِ الدِّینِ (الفاتحہ (۴) کے سامنے بالکل خالی ہاتھ ہوں گے کیونکہ ابھی حساب کرنے کا وقت ہے حساب چکانے کا وقت نہیں حساب کے دوران ان کو یہ خبر دی جائے گی کہ تمہارا حساب تو کچھ بن سکتا ہی نہیں کیونکہ جس نے دنیا میں جمع نہیں کرایا وہ آخرت میں جمع نہیں کروا سکتا اور دنیا میں واپس جانے کا وقت کوئی نہیں اس لئے یہ محاورہ فرمایا گیا ہے کہ سونے کے پہاڑ ہوں یا زمین و آسمان کے برابر دولتیں ہوں جو کچھ تم خرچ کر دو گے تب بھی اس وقت تمہیں کچھ نہیں ملے گا۔جس کا ایک معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کی اولادیں اگر ان کے بعد کچھ خرچ کریں تب بھی ان کی جزا ان کو نہیں پہنچے گی چنانچہ میں نے اس مضمون پر غور کر کے دیکھا ہے بہت سے مولوی بعض سادہ لوح مسلمانوں کو اس دھو کہ میں مبتلا رکھتے ہیں کہ جو نیکیاں ان کے والدین نہیں کر سکے ان کے مرنے کے بعد وہ نیکیاں کریں تو ان کا ثواب ان کو پہنچے گا قرآن کریم اس مضمون کو کلیۂ رد کرتا ہے اور جھٹلاتا ہے وہ نیکیاں جو انسان زندگی میں کرتا رہا ہو۔وہ وعدے جو نیکیوں کے وعدے تھے اور خلوص نیت سے کئے گئے مگر وہ پورے نہ کر سکا ہو ان کے متعلق تو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی سند ملتی ہے کہ ایسے شخص کی وہ نیکیاں جو زندگی میں کیا کرتا تھا یا کرنا چاہتا تھا اگر وہ اولا دکرے تو اس کی جزا اس کومل جائے گی لیکن بد کے لئے ایک بے نماز کے لئے چاہے کروڑ نمازیں پڑھی جائیں وہ نماز میں اس کو نہیں پہنچ سکتیں جو تلاوت کا خود مزہ نہیں لیتا تھا جس کو ذکر اللہ میں مزہ نہیں آتا تھا بلکہ طبیعت گھبراتی تھی اس کے لئے قرآن خوانیاں خواہ ساری دنیا میں کرائی جائیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔