خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 81
خطبات طاہر جلد ۱۲ 81 خطبہ جمعہ ۲۹/ جنوری ۱۹۹۳ء کرتے یہ جھوٹ ہے اس لئے آگے مہلت نہیں دی جا رہی کہ اللہ کا احسان ہے کیونکہ ایسے لوگ جو بدیوں پر مستقل ہو چکے ہوں وہ مہلت ملنے پر بدیوں میں بڑھا کرتے ہیں۔پس یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی سختی نہیں بلکہ ایک نرمی اور احسان کا سلوک ہے کہ جتنی بدیاں کر لی گئیں انہی پر آخر پر اکتفا کرنے کا موقع عطا فرما دیا اور نہ انسان کو مزید زندگی ملتی تو ان بدیوں پر اکتفا نہ کرتا بلکہ اور آگے بڑھتا چلا جاتا۔یہ وہ مضمون ہے جسے جماعت احمد یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے پیش نظر رکھے ہوئے ہے اور دنیا میں ایسی کوئی جماعت نہیں جو خدا تعالیٰ کی خاطر اپنی اس دنیا کی زندگی میں آخرت کی زندگی کے لئے اموال آگے بھیج رہی ہے یعنی وہ مال جو یہاں خرچ کرتی ہے وہ دراصل آخرت میں منتقل ہو رہے ہیں۔یہ ایک روحانی Banking سسٹم ہے اور اسی ذریعہ سے اموال دوسری طرف منتقل ہو سکتے ہیں اور کوئی ذریعہ نہیں ہے۔اموال منتقل کرنے سے متعلق اس سے پہلے بھی قوموں نے غور کئے ہیں اور کچھ حل تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔فراعین مصر کے علاوہ اور بھی ایسے رواج دنیا میں پائے جاتے تھے کہ مرنے والوں کے ساتھ ان کے مال و دولت بلکہ بعض دفعہ زندہ غلاموں کو مار کر ساتھ دفن کر دیا جاتا تھا کہ یہ اگلے جہان میں منتقل ہو جائیں اور جانے والا خالی ہاتھ نہ جائے۔کیسی جاہلانہ اور نا کام کوششیں تھیں کیونکہ خدا تعالیٰ کے نظام میں بھی ایک Tariff لگا ہوا ہے، ایک Tariff Post ہے جس طرح امیگریشن کی پوسٹ ہوتی ہے اور کشم کی پوسٹ ہوتی ہے اسی طرح خدا تعالیٰ نے موت کو ایک ایسی پوسٹ بنا دیا ہے جس سے آگے نہ کوئی بغیر اجازت جا سکتا ہے نہ بغیر منظوری کے کوئی مال وہاں سے گزرسکتا ہے لیکن مال کے انتقال کے لئے ایک بینکنگ سسٹم ہے وہ اللہ تعالیٰ کو قرضہ حسنہ دینے کا نظام ہے اور قرضہ حسنہ جو خدا تعالیٰ نے فرمایا اس کے دو معانی ہیں۔اول یہ کہ دنیا میں بھی خدا کی راہ میں خرچ کرنے والوں کو ضرور اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے اور خدا کے نام پر کچھ دینے والا اس دنیا میں بھی خالی ہاتھ بغیر ادا ئیگی کے نہیں رہا کرتا بلکہ عام محاورہ میں جو کہا جاتا ہے کہ دس دنیا اور ستر آخرت تو کچھ ویسی ہی بلکہ اس سے بڑھ کر کیفیت ہوتی ہے بہت سے مالی قربانی کرنے والے جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں کچھ دیا تو خدا نے اس سے