خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 840 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 840

خطبات طاہر جلد ۱۲ 840 خطبه جمعه ۲۹/اکتوبر ۱۹۹۳ء ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسی مضمون کو مزید کھولتے ہوئے بیان فرماتے ہیں : ہم یہ نہیں کہتے کہ زراعت والا زراعت کو اور تجارت والا تجارت کو، ملا زمت والا ملازمت کو اور صنعت و حرفت والا اپنے کاروبار کو ترک کر دے اور ہاتھ پاؤں تو ڑ کر بیٹھ جائے بلکہ ہم یہ کہتے ہیں لا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللهِ ( النور : ۳۷) والا معاملہ ہو۔۔۔“ ہم یہ کہتے ہیں کہ کوئی تجارت اور کوئی کاروبار ان کو اللہ کے ذکر سے غافل نہ کرنے والا ہو، یہ مراد ہے۔اس دنیا میں رہتے ہوئے اگر ہر چیز خدا سے غافل کرنے کی بجائے خدا کا ذکر یاد دلانے والی بن جائے تو دنیا میں اس رنگ میں رہنا اور اس سے تعلق جوڑ ناہرگز منع نہیں ہے لیکن وہ تعلق جو خدا کی ذات سے غافل کرے اور انسان کو خدا سے تو ڑ کر اپنی طرف کھینچ لے۔وہ تعلق ہے جس کی مناہی فرمائی گئی ہے۔پھر فرماتے ہیں: وو۔۔۔کاروبار تجارت میں اور زمیندار اپنے امور زراعت میں اور بادشاہ اپنے تخت حکومت پر بیٹھ کر غرض جو جس کام میں ہے اپنے کاموں میں خدا کو نصب العین رکھے اور اس کی عظمت اور جبروت کو پیش نظر رکھ کر اس کے احکام اور اوامر ونواہی کالحاظ رکھتے ہوئے جو چاہے کرے اللہ سے ڈر اور سب کچھ کر ( ملفوظات جلد پنجم صفحه : ۵۵۰) تو یہ مفہوم ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا ہے۔یہ مراد نہیں ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر قسم کے گناہ کرتے رہو۔مراد یہ ہے کہ اللہ سے ڈر کر ر ہو اس ڈر کے دائرے میں جو کچھ کر واس میں تم آزاد ہو اور تمہیں کوئی خوف نہیں یہ جب خدا کا خوف آ جائے تو ہر غیر اللہ کے خوف سے انسان آزاد ہو جاتا ہے۔خوف سے بچنے کا یہی طریق ہے کہ ایک خوف کو یعنی اللہ کے خوف کو غالب کر لیں اور پھر کسی غیر اللہ کا، کسی اور چیز کا خوف انسان کو ڈرا نہیں سکتا، اس کو مرعوب نہیں کر سکتا ، اس کی زندگی جہنم نہیں بنا سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اگر انسان کی زندگی کا یہ مدعا ہو جائے کہ وہ صرف تنعم کی زندگی بسر کرے۔۔۔“ یعنی یہ آپ کو خوب کھول کھول کر سمجھانا پڑتا ہے کہ زندگی میں رہتے ہوئے تبتل کیسے اختیار