خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 837
خطبات طاہر جلد ۱۲ 837 خطبه جمعه ۲۹/اکتوبر ۱۹۹۳ء دادا کا یہ پیغام تھا کہ اس کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں یہ عرض کر دیں۔میری نوکری کی فکر نہ کریں۔میں نے جہاں نوکر ہونا تھا ہو چکا ہوں۔یہ سکھ زمیندار حضرت والد صاحب کی خدمت میں حیران و پریشان ہو کر واپس آیا اور عرض کیا کہ آپ کے بچے نے تو یہ جواب دیا ہے۔میں نے تو جہاں نو کر ہونا تھا ہو چکا ہوں۔شاید وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جواب کی اہمیت کو نہ سمجھتا تھا۔مگر والد صاحب کی طبیعت بڑی نکتہ شناس تھی کچھ دیر خاموش رہنے پر فرمانے لگے۔اچھا غلام احمد نے یہ کہا ہے کہ میں نوکر ہو چکا ہوں تو پھر خیر ہے اللہ اسے ضائع نہیں کرے گا۔حضرت میاں بشیر احمد صاحب روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک بڑے رئیس نے ہمارے دادا صاحب سے پوچھا کہ سنتا ہوں آپ کا ایک چھوٹا لڑکا بھی ہے مگر ہم نے اسے دیکھا نہیں ہے۔دادا صاحب نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ ہاں میرا ایک چھوٹا لڑکا تو ہے مگر تازہ شادی شدہ دلہنوں کی طرح کم نظر آتا ہے۔اگر اسے دیکھنا ہومسجد کے کسی گوشے میں جا کر دیکھ لیں۔وہ تو مسیتر ہے پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا تبتل آغاز ہی سے خدا تعالیٰ کی طرف سے فیض یافتہ تل تھا، ایک فطرت ثانیہ بن چکا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: میں کہتا ہوں کہ اگر مجھے اس امر کا یقین دلایا جاوے کہ خدا تعالیٰ سے محبت کرنے اور اس کی اطاعت میں سخت سے سخت سزا دی جائے گی تو میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میری فطرت ایسی واقع ہوئی ہے کہ ان تکلیفوں اور بلاؤں کو لذت اور محبت کے جوش و شوق کے ساتھ برداشت کرنے کو تیار ہے اور باوجود ایسے یقین کے جو عذاب اور دکھ کی صورت میں دلایا جائے کبھی خدا کی اطاعت اور فرمانبرداری سے ایک قدم باہر نکالنے کو ہزار بلکہ لا انتہاء موت سے بڑھ کر دکھوں اور مصائب کا مجموعہ قراردیتی ہے۔“ (ملفوظات جلد دوم صفحہ ۱۳۴۰) پھر نصیحت کے رنگ میں ہمیں فرماتے ہیں :۔سب خیر ہے اسی میں کہ اس سے لگاؤ دل ڈھونڈو اسی کو یارو! بتوں میں وفا نہیں