خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 830 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 830

خطبات طاہر جلد ۱۲ 830 خطبه جمعه ۲۹/اکتوبر ۱۹۹۳ء او پئے دلدار، از خود مرده بود وہ اپنے محبوب کی خاطر اپنے وجود سے خود کھویا گیا اپنے اوپر موت وارد کر دی۔از پئے تریاق ، زہرے خورده بود تریاق حاصل کرنے کی خاطر زہر کھایا گیا۔کیسا پیارا کلام ہے، کیسا عمدہ ایک بیان ہے کہ اس لئے کہ تریاق ملے اس نے زہر کھا لیا یعنی وہ حالت اختیار کر لی جس کے بعد اللہ تعالی نے لازماً تریاق دینا ہی دینا تھا۔تا نہ، نوشد ، جامِ ایں زہرے، گسے گے رہائی یا بد از مرگ آں جسے (درشین فاری: ۲۱۳) کہ جب تک کوئی یہ زہر خود نہ کھا لے اسے 'گے رہائی یا بد از مرگ آں جسے انسان جو خس و خاشاک ہے بے حیثیت ہے اسے اس موت سے رہائی مل کیسے سکتی ہے۔پس یہاں موت اور موت سے رہائی کا مضمون اکٹھا ہی بیان فرمایا ہے یعنی ایک موت سے رہائی کے لئے ایک موت اختیار کرنی پڑتی ہے۔زیر این موت است پنہاں، صد حیات زندگی خواہی، بخور جام ممات (در رشین فارسی :۲۱۳) اس موت کے نیچے پنہاں ہیں سینکڑوں زندگیاں ، زندگی خواہی تو زندگی کا خواہاں ہے، زندگی چاہتا ہے۔نور جام کمات موت کے جام پی لے اسی میں زندگی ہے پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔توحید کا نور اپنی پوری شان کے ساتھ اس وقت تک انسان میں چمک نہیں سکتا جب تک اس سے پہلے آفاقی معبودوں کی نفی نہ ہو جائے۔یعنی تنبل کے مضمون کو اس رنگ میں بیان فرما رہے ہیں کہ ایک توحید تقتل کے بعد ہے۔ایک تو حید تبتل سے پہلے ہے، تو حید کو اختیار کرتے ہو تو تبتل کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے۔خدا کی خاطر دنیا چھوڑنی ہو اس سے پہلے ، توحید کی ضرورت ہے مگر فر مایا ایک توحید تبتل کے بعد جلوہ گر ہوتی ہے۔وہ ایک عظیم الشان تو حید کا تصور ہے جس کی کوئی مثال نہیں ہے۔فرماتے ہیں: توحید ایک نور ہے جو آفاق و انفسی معبودوں کی نفی کے بعد دل میں