خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 830
خطبات طاہر جلد ۱۲ 830 خطبه جمعه ۲۹ اکتوبر ۱۹۹۳ء او پئے دلدار، از خود مرده بود وہ اپنے محبوب کی خاطر اپنے وجود سے خود کھویا گیا اپنے اوپر موت وارد کر دی۔ از پئے تریاق ، زہرے خوردہ بود تریاق حاصل کرنے کی خاطر زہر کھایا گیا۔ کیسا پیارا کلام ہے، کیسا عمدہ ایک بیان ہے کہ اس لئے کہ تریاق ملے اس نے زہر کھا لیا یعنی وہ حالت اختیار کر لی جس کے بعد اللہ تعالی نے لازماً تریاق دینا ہی دینا تھا۔ ه تا نہ، نوشد ، جام ایں زہرے ، گسے گے رہائی یا بد از مرگ آں جسے (در مشین فارسی: ۲۱۳) کہ جب تک کوئی یہ زہر خود نہ کھا لے اسے گئے رہائی یا بد از مرگ آں جسے انسان جو بر یا خس و خاشاک ہے بے حیثیت ہے اسے اس موت سے رہائی مل کیسے سکتی ہے۔ پس یہاں موت اور موت سے رہائی کا مضمون اکٹھا ہی بیان فرمایا ہے یعنی ایک موت سے رہائی کے لئے ایک موت اختیار کرنی پڑتی ہے۔ ه زیر این موت است پنہاں، صد حیات زندگی خواهی، بخور جام ممات در مشین فارسی : ۲۱۳) اس موت کے نیچے پنہاں ہیں سینکڑوں زندگیاں ، زندگی خواہی تو زندگی کا خواہاں ہے، زندگی چاہتا ہے۔ خور جام کمات، موت کے جام پی لے اسی میں زندگی ہے پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔ توحید کا نور اپنی پوری شان کے ساتھ اس وقت تک انسان میں چمک نہیں سکتا جب تک اس سے پہلے آفاقی معبودوں کی نفی نہ ہو جائے۔ یعنی تقتل کے مضمون کو اس رنگ میں بیان فرمارہے ہیں کہ ایک توحید قتل کے بعد ہے۔ ایک توحید تنبل سے پہلے ہے، توحید کو اختیار کرتے ہو تو تبتل کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے۔ خدا کی خاطر دنیا چھوڑنی ہو اس سے پہلے ، توحید کی ضرورت ہے مگر فر مایا ایک تو حید تقبل کے بعد جلوہ گر ہوتی ہے۔ وہ ایک عظیم الشان توحید کا تصور ہے جس کی کوئی منا نہیں ہے۔ فرماتے ہیں: توحید ایک نور ہے جو آفاقی و نفسی معبودوں کی نفی کے بعد دل میں