خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 829
خطبات طاہر جلد ۱۲ 829 خطبه جمعه ۲۹/اکتوبر ۱۹۹۳ء نظام جماعت میں نئے آنے والوں کی تربیت کے لئے ایک الگ شعبہ اس رنگ کا قائم ہو جائے جو پہلے نہیں تھا۔اصلاح و ارشاد تو ہے تربیت کے سیکرٹری بھی ہیں ، تربیت کے مختلف عہدے موجود ہیں لیکن میں جس بات کا ذکر کر رہا ہوں وہ خصوصیت سے نومبائعین کے حوالے سے کر رہا ہوں اور اس پہلو سے ہمیں اب مستقلاً ایسے شعبے کے قیام کی ضرورت ہے اور اعلیٰ پیمانے پر اس نظام کو جاری کرنا ضروری ہے کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ اللہ کے فضل کے ساتھ اب ہماری تبلیغی کوششوں کو کثرت سے پھل لگنے والے ہیں۔یہ گزشتہ سال جو واقعہ ہوا ہے کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہے۔یہاں آئندہ زمانوں کے حالات کا ایک پیش خیمہ ہے، آئندہ کیا ہونے والا ہے اس کی خوشخبری دینے والا واقعہ تھا۔پس اللہ کی تائید کی ہوائیں لوگوں کو احمدیت میں داخل کرنے کے لئے چل پڑی ہیں۔انہیں سنبھالنے کی تیاری کرنا انتہائی ضروری ہے ورنہ یہ لوگ خود بھی نقصان اٹھائیں گے جو بغیر تربیت کے پڑے رہیں گے اور آپ کو بھی نقصان پہنچائیں گے اور آپ کے اندر بھی غلط رسمیں جاری کریں گے، اسلام سے ہٹی ہوئی عادات اپنے ساتھ لے کر آئیں گے اور کئی قسم کی بدیاں ہیں جو ان کے ساتھ داخل ہو جائیں گی۔اس لئے لازم ہے کہ نئے آنے والوں کو پہلے Quarantine میں رکھا جائے ان کی تربیت کی جائے ، ان کے جراثیم دھوئیں جائیں ان کو ہر قسم کے گند سے صاف کیا جائے اور پاک صالح وجود بنا کر نظام جماعت کا حصہ بنایا جائے۔اب میں واپس اس مضمون کی طرف آتا ہوں جو گز شتہ کئی خطبات سے جاری ہے۔تبتل کے متعلق میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی بارہا موت کا ذکر فرمایا ہے کہ مرجاؤ لیکن جہاں جہاں موت کا ذکر فرمایا ہے وہاں زندہ ہونے کا ذکر بھی ہے۔زندہ ہونے کے لئے مرو کیونکہ موت کے بغیر ایک نئی زندگی مل نہیں سکتی اور جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام موت کہتے ہیں وہی تقتل ہے تبتل کا دوسرا نام سمجھ لیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: او پئے دلدار، از خود مرده بود از پئے تریاق ، زہرے خورده بود ( درشین فارسی: ۲۱۲) کہ دیکھو وہ یعنی حضرت محمد مصطفی میں یہ آپ کے عشق میں یہ ترانہ گایا جا رہا ہے حضرت مسیح موعود کا یہ کلام آنحضور ﷺ کی فضیلتوں کے بیان میں ہے۔کہتے ہیں: