خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 809
خطبات طاہر جلد ۱۲ 809 خطبه جمعه ۲۲ را کتوبر ۱۹۹۳ء وہاں یہ بھی لکھتا ہے کہ اَحْسَنَ الْقَصَصِ میں لفظ قصص قصے کا متبادل ہے کیونکہ یہ Substantive ہے اور عربی لغت سے یہ ثابت ہے کہ بعض دفعہ Substantive کو اسم کے متبادل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔پس یہاں اس کا ترجمہ قصہ کرنا نا جائز نہیں لیکن اس سے بہت بڑھ کر ایک بہت ہی بزرگ صاحب فہم اور صاحب عرفان عالم دین حضرت علامہ امام راغب کی گواہی ہے۔میں تو علامہ امام راغب کے علم سے جتنا استفادہ کرتا ہوں اتنا ہی ان کی محبت میرے دل میں بڑھتی جاتی ہے اور درود میں میں ان کو بھی آل میں شامل کرتا ہوں کیونکہ قرآن کریم کے الفاظ پر جتنی گہری نظر ڈال کر انہوں نے وہ کتاب لکھی ہے جسے مفردات امام راغب کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اس کی کوئی اور نظیر سارے عالم اسلام میں پیش نہیں کی جاسکتی۔بہت گہری نظر سے مطالعہ کیا اور قرآن سے گواہیاں نکالیں اور جو بات بیان کی اس کی قرآن سے ایسی ٹھوس شہادت پیش کی ہے کہ کسی عالم کو پھر اس کے مقابل پر زبان کھولنے کی جرأت نہیں ہو سکتی۔یہ ایک لمبی بحث ہے آپ اس میں فرماتے ہیں۔وَالْقَصَص الأخبار المتتبَّعة يعنى قصص ان خبروں کو بھی کہتے ہیں جن کی پیروی کی جائے۔پس قصص یعنی تتبع کے نتیجہ میں جو اخبار ہاتھ آتی ہیں ان کو بھی نقص کہا جاتا ہے۔الْقَصَصُ الْحَقُّ ( آل عمران : ۶۳) کہ دیکھیں قرآن کریم نے فرمایا انقَصَصُ الْحَقُّ حق کے بیان کرنے کا طریق مراد نہیں ہے بلکہ حق کے تعلق میں قصے مراد ہیں۔پھر فرماتے ہیں قرآن کریم نے فرمایا۔نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ کہ اس نے قصے بیان فرمائے یہاں قصص نہیں فرمایا ”بیان کرنے کا طریق بیان فرمایا تو مراد ہو ہی نہیں سکتا۔پس ثابت ہوا کہ قرآن لفظ نقص کو قصہ کے متبادل بھی استعمال کرتا ہے۔پھر اس آیت کا حوالہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ کہ ہم تیرے سامنے بہترین قصہ بیان کر رہے ہیں ، سب سے زیادہ حسین قصہ بیان کر رہے ہیں۔پس ان مثالوں میں جہاں قصص قصہ کے معنوں میں استعمال ہوا ہے حضرت امام راغب نے اس آیت کریمہ کو بھی شامل کر لیا ہے۔یہ میں اس لئے بیان کر رہا ہوں کہ یہ بزرگ عالم جن کا میں نے ذکر کیا ہے یہ تو ہمیشہ بلاتر در جب بھی ان کے ذہن میں کوئی ایسا خیال آئے کہ جس کی طرف مجھے متوجہ کرنا ہو یہ ضرور متوجہ فرماتے ہیں اور ان کا بڑا احسان ہے کہ اس معاملہ میں کسی جھوٹے خوف میں یا جھوٹے ادب میں مبتلا نہیں ہوتے لیکن بہت سے ایسے علماء ہیں جو سمجھتے ہوں کہ میں نے