خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 801 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 801

خطبات طاہر جلد ۱۲ 801 خطبه جمعه ۱۵ اکتوبر ۱۹۹۳ء گہرا اور کتنا محتاط اور کتنا فصیح و بلیغ ہے۔اس موقع پر در حقیقت کا لفظ عمد سوچ کر داخل کیا گیا ہے محاورۃ نہیں فرمایا میری بیعت کرتے وقت سب کہتے ہیں کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا لیکن رحقیقت کتنے ہیں جو رکھتے ہیں یا رکھنے کی تمنا رکھتے ہیں۔پس فرمایا جو شخص در حقیقت دین کو دنیا پر مقدم نہیں رکھتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔جو شخص پورے طور پر ہر ایک بدی سے اور ہر ایک بد عملی سے یعنی شراب سے اور قمار بازی سے ( یعنی جوئے سے ) بدنظری سے اور خیانت سے، رشوت سے اور ہر ایک ناجائز تصرف سے تو بہ نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے“۔اب یہ تو تحریر اکثر دلوں پر بہت بوجھل ہے کیونکہ ہر بدی اگر اپنی انتہا میں نہیں تو کسی نہ کسی صورت میں کسی نہ کسی شکل میں انسان کے اعمال میں نہیں تو اس کے دل میں پنپ رہی ہوتی ہے، اس کی نیتوں میں داخل ہوتی ہے، تمنا بن چکی ہوتی ہے اور اگر کوئی چیز انسان کے اور اس کی بدی کی راہ میں حائل ہے تو خواہش کی کمی نہیں، بے اختیاری حائل ہوتی ہے۔بہت سے معصوم ایسے ہیں جو مجبور ہیں، بے اختیار ہیں ، ان کی بدی تک پہنچ نہیں ہوتی۔پہنچ ہو اور پھر نہ کریں تو یہ نیکی ہے اور اسی مضمون کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرماتے ہیں۔یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ اگر تمہاری نیتوں میں داخل رہیں تو تم کبھی تنبل اختیار نہیں کر سکتے۔نیتوں کو پاک صاف کرو، نیتوں کی گہرائیوں سے جڑوں کو اکھیڑ کر پھینک دو۔پھر دعا کروتو پھر دیکھو کہ کس طرح نیکی اسی سرزمین میں جڑیں پکڑتی ہے جہاں پہلے بدیاں پنپ رہی تھیں۔فرمایا:۔۔۔ہر ایک مرد جو بیوی سے یا بیوی خاوند سے خیانت سے پیش وو آتی ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔۔۔“ ہمارے کتنے جوڑے ہیں جن کی زندگیاں اسی لئے برباد ہوئیں کہ کہیں خاوند بیوی سے خیانت کر رہا ہے کہیں بیوی خاوند سے خیانت کر رہی ہے اور یہ خیانت کئی طرح سے ہوسکتی ہے۔حقوق کی ادائیگی میں کمی ، چوری چھپے کچھ تعلقات قائم رکھنا یا ایک ملکیت کو دوسرے کے سپر د کر دینا۔یہ تفاصیل بیان کرنے کا موقع نہیں مگر انسان کے زندگی کے دائروں میں میاں بیوی کے تعلقات کا دائرہ بھی بہت وسیع دائرہ ہے اور اس دائرہ میں ہر قسم کی خیانت کے مضمون بار ہا جگہ پاجاتے ہیں۔ان موقعوں پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ قول پیش نظر رکھ کر غور کریں کہ :