خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 4 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 4

خطبات طاہر جلد ۱۲ 4 خطبه جمعه ار جنوری ۱۹۹۳ء احمد یوں نے محسوس کیا۔ اس میں لطیفے کی ایک بات یہ بھی ہوئی کہ امریکہ کے ایک دوست نے خط لکھتے ہوئے بڑے جوش میں جلسے کے اثرات بیان کرنے شروع کئے کہ مجھے یوں لطف آیا اور پھر مجھے یوں لطف آیا اور اچانک انہوں نے کہا کہ ایک بات سوچ کر میرا رنگ فق ہو گیا اور وہ بات یہ تھی کہ میں نے سوچا کہ یہ نہ ہو کہ آپ امریکہ کا اگلا جلسہ بھی لنڈن لنڈن ہی سے کروادیں ۔ یہ لطیفہ میں نے گھر پر گھر پر بچوں کو سنایا تو میری ایک بیٹی نے کہا کہ یہ نہ ہوگا کیا مطلب؟ اب تو یہ ہونا ہی ہونا ہے کیونکہ جماعت خدا کے فضل سے اس تیزی سے پھیل رہی ہے اور ہر ملک کی خواہش ہو گی کہ آپ ضرور جائیں اب تو جلسے پھیلنے شروع ہو جائیں گے اور لازماً خلیفہ وقت جو بھی ہوگا جہاں بھی ہوگا۔ وہاں سے وہ ہر جلسے میں شرکت کیا کرے گا۔ تو میری دوسری بیٹی نے پھر ایک سالانہ کیلنڈر تجویز کیا کہ صبح اٹھ کر لوگ جس طرح تاریخیں پوچھتے ہیں یہ پوچھا کریں گے کہ آج کونسا جلسہ ہے تا کہ ٹیلی ویژن کے ذریعہ اس جلسہ کو دیکھیں تو بہر حال یہ لطیفے بھی ہیں اور حقیقتیں بھی ہیں اس سے انکار نہیں ہو سکتا کہ خدا تعالیٰ نے احمدیت کی کائنات بدل دی ہے موسم تبدیل کر دیتے ہیں۔ وہ احمدی جن کی آواز گھروں تک پہنچنے سے روکی جا رہی تھی وہ گھروں میں داخل ہو گئے ہیں۔ ساری دنیا کے گھروں میں داخل ہو کر ان کے دلوں میں اُتر رہے ہیں ۔ کون ہے جو خدا کی اس تقدیر کی راہ میں حائل ہو سکے؟ اب تو یہ سلسلہ پھیلے گا اور پھولے گا اور پھلے گا اور کوئی نہیں جو اس کی راہ میں حائل ہو سکے۔ یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وہ شاداب درخت ہے جس کی شاخوں نے تمام دنیا پر پھیل کر سب دنیا کے لئے سائے اور عاطفت کے سامان پیدا کرنے تھے۔ سب سے دلچسپ بات یا دلچسپ باتوں میں سے ایک بات کہہ لیجئے جس کی طرف میری خاص توجہ گئی تھی اور جس کے متعلق مجھے معلوم ہوا ہے کہ ساری دنیا کی جماعتیں بھی محسوس کر رہی ہیں وہ ہے عالمی بیعت۔ تاریخ عالم میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ اللہ اور رسول کے نام پر کوئی بیعت لی جا رہی ہو اور بیک وقت سارے جہان میں اس بیعت کے ساتھ زبانیں بھی متحرک ہوں اور دل بھی دھڑک رہے ہوں اور ایک آواز کے ساتھ لا اله الا الله محمد رسول اللہ کا اقرار کر نا دل میں ایک عجیب کیفیت پیدا کرتا ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے خدا تعالیٰ کی تقدیر کا ایک اظہار تھا یہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں ہوا۔ یہ بیان کیا گیا تھا کہ ایک نئے انگریز مسلمان کے دل میں یہ