خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 779
خطبات طاہر جلد ۱۲ 779 خطبه جمعه ۸/اکتوبر ۱۹۹۳ء قریب ہواتنی ہی مصیبت پڑ جاتی ہے۔آپ جانتے ہیں اور ہر انسان کی روز مرہ کی ملاقاتوں میں یہ بات آئے دن ظاہر ہوتی رہتی ہے۔اگر تعلق والا پیارا ملتا ہے تو دل نہیں چاہتا کہ وہ اٹھ کر جائے اور کوئی بور کرنے والا یا کسی پہلو سے جو آپ کے لئے ناقابل قبول ہو یا بعضوں کو بعض شخصیتوں سے الرجی ہوتی ہے ایسا آدمی پاس آکر بیٹھ جائے تو مصیبت بن جاتی ہے حالانکہ وہ بے چارا کچھ بھی نہیں کہ رہا ہوتا۔کوئی ظاہری تکلیف نہیں دے رہا ہوتا، بعض دفعہ وہ آپ کی روٹی بھی نہیں کھاتا۔آپ کے لئے کچھ لے کر بھی آتا ہے لیکن جاتا ہے تو آپ کہتے ہیں چلو اچھا ہوا، شکر ہے آخر نجات ملی۔اس نے پیچھے توڑ دیئے تھے۔تو وہ لوگ جو یہاں تقتل اختیار نہیں کرتے ان کے اس دنیا میں بیٹھے ٹوٹیں گے۔وہاں جو وجود دکھائی دیں گے ان سے کبھی اس دنیا میں تعلق پیدا نہیں ہوا اور تعلق اس لئے پیدا نہیں ہوا کہ آخر وقت تک دنیا کے وجودوں سے ایسا تعلق قائم رکھا کہ جس کے ٹوٹنے سے ایک روحانی عذاب پیدا ہو جاتا ہے۔ایسی حالت میں جان دی کہ تبتل نہیں ہو سکا تھا۔ایسی صورت میں انگلی دنیا جہنم ہی جہنم ہے۔لیکن محض اس طرح کی نہیں جیسے میں بیان کر رہا ہوں کیونکہ جہنم کی وہ شکل ایسی ہے جس کا ہم حقیقت میں تصور نہیں کر سکتے ہم جو چیزیں آج ایک جذبات اور کیفیات کی صورت میں سوچ رہے ہیں یہ اگلی دنیا میں موجودات بن جائیں گی۔ان کو ظاہری جسم عطا کر دیئے جائیں گے اور اس صورت میں ان کے عذاب دینے کی طاقت بہت بڑھ چکی ہوگی اور یہ وہ مضمون ہے جو بیان کر کے یہ آیت وارننگ دیتی ہے کہ كَذلِكَ تُخْرَجُونَ تمہیں ہم لازماً یہاں سے نکال دیں گے۔اس دنیا کو تم چھوڑ دو گے۔اس لئے روحانی طور پر اس سے نکلنے کی تیاری کرو۔آنحضرت ﷺ بھی جن مردوں کو زندہ کرنے کے لئے آئے وہ یہی مردے تھے جو روحانی طور پر مردہ تھے، ان کو بھی ایک موت کی حالت سے نکال کر ایک زندگی کی حالت میں داخل فرمایا گیا ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمُ (الانفال: ۲۵) کہ اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ اللہ اور اس کے رسول کی بات کا ہاں میں جواب دو لبیک کہو۔اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُم جب وہ تمہیں بلاتا ہے تا کہ تمہیں زندہ کرے۔