خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 778
خطبات طاہر جلد ۱۲ 778 خطبه جمعه ۸/اکتوبر ۱۹۹۳ء انبیاء کو قبول کیا ان کے لئے کوئی موت نہیں لیکن بعد میں آنے والے مرجایا کرتے ہیں جیسا کہ فرمایا فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ (الاعراف (۱۷۰) بعض بڑے بڑے نیک اعمال کرنے والے مقدس وجود تھے مگر بد قسمتی سے ان کی نسلیں ختم ہو گئیں۔ایسی نسلوں نے ان کا ورثہ پایا جنہوں نے بد اعمال شروع کر دیئے اور ان کی زندگی موت میں تبدیل ہوگئی۔پس بعض قو میں زندگی کی حالت میں جب اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ایک حق کو قبول کرتی ہیں بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ موت کی حالت سے نکل کر ایک حق کو قبول کرنے کے نتیجہ میں زندگی پاتی ہیں ان کے لئے نصیحت ہے کہ اپنی آنے والی نسلوں کی حفاظت کرنا ان کو بھی نہ مرنے دینا لیکن یاد رکھنا کہ تم سے کوئی ایسا ابدی وعدہ نہیں ہے کہ تم زندگی پاؤ گے تو لازماً تمہاری آنے والی نسلیں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔اس کے لئے یہ اصول یا درکھنا کہ لَا يَنَالُ عَهْدِى الظَّلِمِينَ (البقره: ۱۲۵) کہ میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچے گا۔پس تم ایسی زندگی اختیار کرو جیسے کہ ایک روح ایک دنیا کو چھوڑ کر دوسری دنیا کی طرف حرکت کر جاتی ہے اور وہ زندگی جو موت کے ساتھ ادلتی بدلتی ہے وہ ایک دائمی صورت اختیار کر جاتی ہے۔پس تمہارے لئے ہم نے دنیا میں یہ موقع پیدا کر دیا ہے کہ خدا کے حضور پیش ہونے سے پہلے موت کی حالتوں سے ابدی طور پر نکل جاؤ۔اپنی نسلوں کو بھی نکالو اور خود ایسے نکلو کہ پھر کبھی دوبارہ موت کی طرف لوٹ کر نہ جاؤ۔یہ وہ مضمون ہے جو اس آیت میں بیان ہوا اور اس تعلق سے میں نے اسے تبتل کے مضمون کے لئے چنا ہے۔میں آج کل آپ کو یہ سمجھا رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف تبتل ضروری ہے۔تل کا مطلب ہے ایک حالت کو چھوڑ کر، ایک جگہ کو چھوڑ کر دوسری جماعت یا دوسری جگہ کی طرف منتقل ہو جانا یہاں تک کہ پہلی جگہ سے رشتے ٹوٹ جائیں تعلق ختم ہو جائیں ، یہ آیت بتاتی ہے کہ اس دنیا میں تم خواہ کتنی دفعہ مارے جاؤ اور زندہ ہو، بالآخر تم نے اس دنیا کو چھوڑ دینا ہے۔بالآخر تمہیں اس دنیا سے رخصت ہونا ہوگا اور وہ تبتل جو بے اختیاری کا تبتل ہے وہ تو تم نے اختیار کرنا ہی کرنا ہے۔کوئی نہیں ہے جو اس کے بغیر رہ سکے، بالآخر لازماً اس دنیا سے رخصت ہو کر تمہیں خدا کی طرف لوٹنا ہے۔لیکن وہ تبتل جوتمہارے اختیار میں ہے اگر وہ تم نے مرنے سے پہلے اختیار نہ کیا تو تمہارا دل دنیا کی جن چیزوں میں اٹکا ہوا ہوگا۔وہی تو قیامت کے دن تمہارے لئے جہنم کا موجب بن جائے گا کیونکہ جس سے تعلق ہو اس سے انسان جتنا دوری اختیار کرتا ہے اتنی ہی تکلیف پہنچتی ہے۔جس سے تعلق نہ ہو جتنا اس کے