خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 773
خطبات طاہر جلد ۱۲ 773 خطبه جمعه ۱/۸ اکتوبر ۱۹۹۳ء فَتَبَرَكَ اللهُ اَحْسَنُ الْخُلِقِيْنَ که واه واه سبحان اللہ ! کیسا عظیم خالق ہے۔بدصورتی پر بھی احسن کا لفظ اطلاق پائے گا۔آنحضرت مہ جب اپنی وحی لکھوایا کرتے تھے تو ایک ایسا مضمون آیا جس میں کائنات کے حسن کا مضمون تھا اس وقت لکھنے والے کا تب کے دل سے بے اختیار یہ کلمہ بلند ہوا کہ فَتَبْرَكَ اللهُ اَحْسَنُ الْخُلِقِينَ (المومنون : ۱۵) واہ واہ اللہ کی ذات کیسی مبارک ہے! اَحْسَنُ الْخُلِقِيْنَ ہے اور بعینہ یہی وہی تھی جو بعد میں نازل ہو رہی تھی۔وقت کی آواز یہ تھی۔فطرت کی آواز تھی کہ فَتَبَرَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَلِقِينَ جو اس کے دل سے بلند ہوئی لیکن جب آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ہاں یہی ہے۔یہی لکھو تو اس کا ایمان لرز گیا۔ٹھوکر کھا گیا اور وہ بد بخت انسان مرتد ہو کر اسلام کے دائرے سے باہر چلا گیا۔پس بعض مواقع ایسے ہوتے ہیں کہ فطرت سے بے اختیار ایک گواہی اٹھتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی تخلیق پر جہاں بھی آپ غور کریں گے خواہ وہ کیسی ہی بدصورت ہو، کیسی ہی بدزیب دکھائی دینے والی هو فَتَبَرَكَ اللهُ اَحْسَنُ الْخُلِقِینَ کا کلمہ بے اختیار، بے ساختہ دل سے اٹھے گا۔اس میں ایک اور پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جو چیزیں پیدا کرتا ہے ان کے بعض مقاصد اس وقت دکھائی نہیں دیتے ، بعد میں دکھائی دیتے ہیں اور بعض مقاصد موازنہ کرنے کے لئے ہوتے ہیں۔اگر بدصورتی نہ ہو تو حسن کا تصور ہو ہی نہیں سکتا۔ہر چیز کے دو Pools ہیں، دو کنارے ہیں اور ان دو کناروں کے بعد سے ایک نیا مضمون پیدا ہو جاتا ہے جتنا بعد زیادہ ہو اتنا ہی ہر کنارے کی اہمیت زیادہ بڑھتی چلی جاتی ہے جتنا وہ قریب اور مدغم ہوں گے اتنا ہی ان کی اہمیت آپس میں مدغم اور مبہم ہوتی چلی جائے گی۔پس کسی مضمون کو نتھار کر پیش کرنا ہو تو دونوں طرف کے کناروں کے خصائل یا ان کے نقوش کو بڑی وضاحت کے ساتھ خوب نکھار کر پیش کرنا ہو گا۔پس جہاں حسن ہے وہاں بدصورتی کا مضمون لازم ہے۔جہاں رحم ہے وہاں ظلم کا مضمون بھی لازم ہے۔یہ ایک لمبا مضمون ہے اس کے کچھ حصوں پر پہلے میں کئی دفعہ روشنی ڈال چکا ہوں۔سر دست اتنا کہنا کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں کوئی باطل نہیں ہے اور جس تخلیق کو آپ سب سے زیادہ بدصورت سمجھتے ہوں اس تخلیق میں بھی بعض مخفی حسن ہیں جو اس مخلوق کو خود معلوم ہیں، وہ اس کی شاکلہ میں داخل ہیں۔وہ مخلوق سب سے بہتر جانتی ہے کہ مجھ میں کوئی تبدیلی نہیں پیدا کر سکتا۔خالق