خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 762
خطبات طاہر جلد ۱۲ 762 خطبہ جمعہ یکم اکتو بر۱۹۹۳ء کی سوچ والے انسان کو سمجھ آسکے، اس کے دل پر نقش ہو جائے۔پس ہم خدا کی فطرت پر ہیں لیکن ہم نے ہر اس جگہ جہاں رنگ بھرنے چاہئیں تھے وہاں اللہ کے رنگ نہ بھرے بلکہ غیر اللہ کے رنگ بھر دیئے۔اپنی تمناؤں کے رنگ بھر دیئے۔اپنے ان تعلقات کے رنگ بھر دیئے جن کی بناء خدا کی محبت نہیں بلکہ غیر اللہ کی محبت ہے۔پس وہی سادہ کاغذ جس میں خدا کی تصویر ابھرنی چاہئے تھی وہاں جگہ جگہ غیر اللہ کی تصویر یں ابھرتی ہیں اور بڑی بھیا تک تصویریں ابھرتی ہیں۔اس صورت میں وہ چیز قدر کے لائق نہیں رہتی۔اس صورت میں وہ چیز جلا دینے کے قابل ٹھہرتی ہے۔پس اسی لئے قرآن کریم نے ہمیں سکھایا کہ یہ دعا کرو کہ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (ال عمران :۱۹۲) اے اللہ تو نے یہ چیزیں باطل تو پیدا نہیں کی تھیں اگر اپنی فطرت پر پیدا کی تھیں تو باطل کیسے ہو سکتی تھیں لیکن ہم جانتے ہیں کہ ہم اس فطرت کی حفاظت نہیں کر سکتے ، اس کی قدر نہیں کرتے۔اس سے اتنا دور جا پڑتے ہیں۔ان نقوش کو ایسا بھیا نک بنا دیتے ہیں کہ اس کے بعد یہ جلانے کے قابل رہ جاتی ہے۔پس وہ پردہ جس پر ایک بہت اعلی قسم کے مصور نے اپنے کمالات کا اظہار کیا ہو اور بعد میں وہ کسی جاہل کے ہاتھوں پڑ جائے اور وہ اس کا حلیہ بگاڑ دے تو اس کو اگر آپ بیچنے کی کوشش کریں گے تو جس کے پاس جائیں گے وہ آپ کو یہی مشورہ دے گا کہ آگ میں جلا دو۔جیسے ہمارے وہاں بعض دفعہ مذاق میں کہتے ہیں کہ تم اس سے چائے پکال یعنی ان کاغذوں کو جلا کر کچھ تو فائدہ اٹھاؤ۔اس کے سوا اس کا کوئی فائدہ نہیں، تو وہی مضمون ہے کہ اے خدا ہمیں ایسا نہ بنے دینا کہ آگ کے ایندھن کے سوا ہماری قیمت کوئی نہ رہے اور جلا کر جسم کئے جانے کے لائق ٹھہرائے جائیں۔پس اس لئے ضروری ہے کہ غیر اللہ سے اللہ کی طرف دوڑو۔اب اس پہلو سے جب آپ اپنے حالات پر غور کریں یا میں کرتا ہوں تو صاف دکھائی دیتا ہے کہ بہت سے اندھیرے گوشے ہیں جہاں توحید کی روشنی ایسی نہیں چمکی کہ وہاں غیر اللہ کے جو چھپے ہوئے وجود ہیں۔ایسے وجود ہیں کہ جو بعض دفعہ ظاہر ہوتے ہیں اور بعض دفعہ دکھائی نہیں بھی دیتے لیکن عمل کر رہے ہوتے ہیں جس طرح بعض دفعہ جراثیم کسی کو اندر اندر کھا رہے ہوتے ہیں، وہ وجود نہیں دکھائی دیتے جب تک کہ توحید کا پورا نور ہر گوشے پر نہ چمک اٹھے۔اسی لئے تو حید پہلے ہے اور تبتل بعد میں ہے۔حضرت شیخ سعدی نے