خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 761
خطبات طاہر جلد ۱۲ 761 خطبہ جمعہ یکم اکتو بر۱۹۹۳ء پیدا کرے اور اس کی خالقیت کا کوئی نقش اس پیدا شدہ چیز پر نہ ہو یہ ہو ہی نہیں سکتا۔کہیں تھوڑا ہوگا کہیں زیادہ ہوگا۔ان میں سے بہترین کون سی ہے حالانکہ سب چیزیں اللہ کی پیدا کردہ ہیں۔مراد یہ ہے کہ ہر چیز پر خدا کا بہر حال ایک نقش ضرور ایسا ہے جو خدا سے تعلق کے لئے اس کو ایک رابطے کا کام دیتا ہے خواہ اس کی دوسری شکلیں خدا سے ظاہری طور پر کوئی بھی تعلق نہ رکھتی ہوں۔اب انسان ہے، انسان کے اندر بے شمار کمزوریاں بھی ہیں ان سے خدا تعالیٰ کا تعلق نہیں وہ تو خدا تعالیٰ کی چھاپ نہیں ہیں، وہ خدا تعالیٰ کی چھاپ کا عدم ہیں۔پس خدا کی ساری مخلوقات میں کچھ مثبت پہلو ہیں جو خدا تعالیٰ کے نقش کی یاد کراتے ہیں۔یہاں اللہ کا نقش دکھائی دیتا ہے، کچھ منفی پہلو ہیں جو خدا تعالیٰ کی صفات سے ہٹنے کے نتیجہ میں یا دور ہونے کے نتیجہ میں اس میں پیدا ہو جاتے ہیں۔پس انسان خدا کی فطرت پر پیدا ہوا ہے۔اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ ہر انسان اسی طرح حسین ہے جیسے ایک خالق کی ہر تخلیق ویسی ہی ہوگی۔خالق نے تو ٹھیک تخلیق بنائی لیکن اگر اس کی تخلیق کے رنگ قائم رکھنے میں ہر ایک نے الگ الگ سلوک کیا ہے۔اگر ایک اچھے آرٹسٹ کی تصویر آپ دیکھیں جو خواہ سینکڑوں سال پرانی ہو اس سے طبیعت کے اوپر اس کی صلاحیتوں کا ، اس کی اعلیٰ قدروں کا، اس کے ذہن کے اندر حسن کا جو تصورہے اس کا بہت اچھا اور گہرا اثر پڑتا ہے لیکن اگر اس تصویر پر کوئی بچہ سیاہی پھیر دے یا کوئی جاہل اس کے اندر کوئی رخنہ ڈال دے تو اس تصویر کی قیمت ہی کوئی نہیں رہتی۔جن تصویروں میں ایسا نقص پیدا ہو جائے وہ آرٹ کی اعلیٰ قابل قدرحد سے نکل ہی جایا کرتی ہیں۔اگر ہر نقش کو بگاڑ دیا جائے تو پھر اس کا کیا بنے گا۔یہ وہ مضمون ہے جس کو پیش نظر رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی فطرت پر پیدا فرمایا لیکن ہم نے اس فطرت کی حفاظت نہیں کی۔انسان اس وقت اس فطرت کے قریب تر ہوتا ہے جب وہ معصوم ہو اور اسی لئے بچے کے متعلق فرمايا كل مولود يولد على الفطرة (بخاری کتاب الجنائز حدیث نمبر: ۱۲۹۶) کہ ہر مولود فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔یہاں وہی فطرت مراد ہے جو اللہ کی فطرت ہے۔بچے میں جو معصومیت ہے جب تک ویسی معصومیت انسان میں پیدا نہ ہو اس وقت تک خدا کی فطرت وہاں رنگ نہیں دکھا سکتی اور اسی لئے تو بہ کرنے والے کے متعلق آنحضرت مہ نے فرمایا کہ وہ ایسا ہی ہو جاتا ہے جیسے نوزائیدہ بچہ ہو۔پس دیکھیں وہی مضمون ہے جس کو مختلف شکلوں میں پھیر پھیر کر بیان کیا جا رہا ہے کہ ہر قتم