خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 760 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 760

خطبات طاہر جلد ۱۲ 760 خطبه جمعه یکم اکتو بر۱۹۹۳ء صورت سے مراد ظاہری صورت نہیں بلکہ سیرت ہے۔پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم یہ فرما رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔یہ حدیث قدسی ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو خبر دی کہ آدم کو میں نے اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔یہاں جسم مراد نہیں ہے بلکہ آدم کی سیرت ہے جو مذکور ہے اور اس پہلو سے اس بات کو مزید تقویت ملی کہ انسان کی فطرت میں اللہ تعالیٰ کی فطرت کے رنگ ہیں۔پھر یہاں تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم نے فرمایا کہ تمام مخلوقات اللہ تعالیٰ کی عیال ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوقات میں سے وہ شخص بہت پسند ہے جو اس کے عیال کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے اور ان کی ضروریات میں خیال رکھتا ہے۔یہاں لفظ عیال اس لئے استعمال فرمایا ہے که بنی اسرائیل کا یہ زعم غلط ثابت ہو جائے کہ خدا ان کو بصورت خاص ایسا پیار کرتا ہے کہ کسی اور انسان سے ممکن ہی نہیں۔اگر یہ مضمون بیان نہ کرنا ہوتا تو ہو سکتا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم اس خیال سے کہ کسی کو غلط فہمی نہ ہو جائے خدا کی ذات سے تعلق میں عیال کا لفظ استعمال نہ فرماتے۔بنی اسرائیل کو Children of Israel کہا جاتا ہے اور اس پر وہ بڑا فخر کرتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہی اللہ کے بچے ہیں اور کوئی نہیں۔تو ساری مخلوق کو عیال اللہ فرما دیا اور اس میں کمال یہ ہے کہ مخلوق کا لفظ استعمال فرمایا ہے انسان کا نہیں تا کہ انسان کو بھی یہ گمان نہ ہو کہ میں ہی زیادہ پیارا ہوں، پیارا وہی ہوگا جو خدا کے قریب ہوگا اور آنحضرت ﷺ نے یہی مضمون ساتھ بیان فرما دیا۔فاحب الخلق الى الله من احسن الى عياله (حديقة الصالحین صفحه ۵۷۳۰) خدا کے نزدیک سب سے اچھی مخلوق وہ ہے جو اس کی مخلوق کی قدر دان ہو، اس کے لئے خیر پیدا کرنے والی ہو، اس کی بھلائی چاہتی ہو۔پس عیال کا معنی بھی سمجھ آ گیا کہ نعوذ باللہ ظاہری اولاد مراد نہیں۔اس مضمون کا کسی معنوں میں بھی اس سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہے مگر پیاری ہے اور خالق کو اپنی ہر خلقت سے ایک پیار ہوتا ہے، ہر تخلیق سے ہوتا ہے۔وہ پیار ہے جو یہاں بیان ہوا ہے اور یہ بھی روشنی ڈال دی گئی کہ ماں کو اپنے بچوں سے کیوں پیار ہوتا ہے۔ماں اپنے عیال سے اس لئے پیار کرتی ہے کہ وہ اپنے جیسے کچھ وجود پیدا کرتی ہے۔ان وجودوں پر ماں کی چھاپ ہوتی ہے اور ان سے اس چھاپ کی وجہ سے اس کا گہرا تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے تو کائنات کی ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور ناممکن ہے کہ خالق کسی چیز کو