خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 754 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 754

خطبات طاہر جلد ۱۲ 754 خطبہ جمعہ یکم اکتوبر۱۹۹۳ء محمد رسول یہ ہیں۔وہ فطرت وہ ہے جو اللہ کے نور کے ساتھ چپکی ہے اور پہلے ہی اتنی روشن تھی کہ قرآن گواہی دیتا ہے کہ اگر آسمان سے یہ نور کا شعلہ نہ بھی اتر تا تو تب بھی اس نے بھڑک اٹھنا تھا یعنی اپنی ذات میں چمک اٹھنے کے لئے تیار تھی کیونکہ بالکل شفاف تھی اور اگر شفاف تھی تو پھر اللہ کی فطرت صلى الله پر تھی اللہ کا جلوہ اس میں دکھائی دینا چاہئے تھا۔پس ثبوت سے پہلے بھی حضرت اقدس محمد مصطفی رہتا ہے میں اللہ کا جلوہ ان آنکھوں کو جود دیکھ سکتی تھیں نمایاں طور پر دکھائی دیتا تھا لیکن جب آسمان سے الہام کا نورا ترا ہے تو فرمایا نُورٌ عَلَى نُورٍ (النور (۳۶) ایک نور دوسرے نور میں مدغم ہو گیا ہے۔اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس نور کا اتصال ہے جو اس نے پیدا فرمایا تھا اور یہاں اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُوْنَ (البقرہ:۱۵۷) کا مضمون ایک اور شان کے ساتھ صادق آتا ہے، لوگ تو مرنے کے بعد خدا کی طرف صلى الله واپس جانے کا سوچتے ہیں۔آنحضور ہے اسی لمحہ خدا میں جاتے تھے جب نُورٌ عَلَى نُورِ کا مضمون آپ کے حق میں بیان فرمایا گیا لیکن خدا نہیں تھے لیسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٍ اللہ جیسا کوئی نہیں، اسی نور مجسم کو فرمایا کہ یہ اعلان کر دے: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمُ يُوحَى إِلَى أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلهُ وَاحِدٌ (الكيف: 1) تجھے دیکھ کر یہ تعجب میں مبتلا ہوں گے جو تجھے قریب سے جانتے ہیں وہ حیرت میں ڈوب جائیں گے کہ خدا کا ایسا کامل مظہر اس سے پہلے کبھی دکھائی نہیں دیا۔نہ سوچا جا سکتا ہے ان سب کے سامنے یہ اعلان کر کہ قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمُ ان سب باتوں کے باوجود میں تمہاری طرح کا ایک بشر ہی ہوں اس سے زیادہ میری کوئی حیثیت نہیں - يُوحَى إِلَى أَنَّمَا الْهُكُمْ اله وَاحِدٌ ہاں ایسا بشر ہوں جس پر وحی نازل ہو رہی اور اس وحی کا خلاصہ یہ ہے کہ تمہارا اللہ ایک ہی ہے اور کوئی الہ نہیں۔پس خدا تعالیٰ کا اپنی مثل پیدا کرنے کا سوال ہی نہیں لیکن اپنی فطرت پر پیدا کرنے کا یہ مطلب ہے کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ آخری اتصال کے لئے الہی صفات حاصل کرنے کی صلاحیت بندوں میں رکھ دی ہے کیونکہ اس کے بغیر محبت کا اتصال ہو ہی نہیں سکتا۔یہ وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ انسان کا آخری جوڑ ہے جس طرح ایک قطرہ سمندر میں ڈوب کر سمندر میں داخل ہو جاتا ہے مگر سمند رقطرے کا جوڑ نہیں ہے لیکن فرق یہ ہے کہ قطرہ سمندر کا مثل ضرور ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے