خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 753
خطبات طاہر جلد ۱۲ 753 خطبہ جمعہ یکم اکتو بر ۱۹۹۳ء تصویر کو دیکھا تو جو اس کی آرزو تھی وہ نہیں تھی اور اپنی ناکامی کے غم میں اسی جگہ سے چھلانگ لگا کر اس نے خود کشی کر لی تو جو کم نظر لوگ ہیں ان کو بعض دفعہ تصویریں بہت ہی خوبصورت اور اعلی دکھائی دیتی ہیں لیکن مصوّر جو صاحب فن ہے وہ جانتا ہے کہ اس کے دل کی اصل تمنا ظاہر نہیں ہوئی اسی طرح شعروں کا حال ہے۔بعض شعروں پر لوگ داد دے رہے ہوتے ہیں لیکن شاعر جانتا ہے کہ جومیں کہنا چاہتا تھا، کہ نہیں سکا۔غالب کے متعلق آتا ہے کہ اس نے اپنے دیوان کے اتنے حصے ضائع کئے ہیں کہ اگر وہ سارے محفوظ ہوتے تو بہت ضخیم کتاب بنتی لیکن نہ صرف یہ کہ وہ ہر شعر پر بار بار محنت کرتا تھا بلکہ جو چاہتا تھا سمجھتا تھا کہ میں وہ ادا نہیں کر سکا۔اس لئے جو اس نے کہا اس میں سے بہت سا حصہ اس نے ناراض ہو کر ضائع کر دیا کہ اس لائق نہیں ہے کہ دنیا کے سامنے پیش کروں۔پس ہر مصور کا ایک نقش ہے جو اس کی تصویر پر چھپ جاتا ہے ہر شاعر کا ایک نقش ہے جو اس کے شعروں میں مضمون بن کر داخل ہو جاتا ہے اس شعر کی فطرت بن جاتا ہے اور وہ شاعر ہی کی فطرت ہے جو شعر کی فطرت ہوتی ہے لیکن اللہ تو صناعی میں اور اپنے مضمون کو بیان کرنے میں اور اپنی تخلیق میں درجہ کمال رکھتا ہے اس سے اوپر کا درجہ ہو نہیں سکتا ھوَ الْخَلْقُ الْعَلِيمُ (الحجر:۸۲) ہے۔اس لئے یہ کہنا کہ خدا نے اپنی فطرت انسان پر نقش نہیں کی یا نہیں کر سکا یہ غلط ہے لیکن درجہ کمال تک وہ فطرت نقش ہو چکی ہو تب بھی خالق اور ہے اور مخلوق اور ہے کسی شعر کو آپ شاعر نہیں کہہ سکتے۔اس جیسا ہے ہی نہیں یعنی اس جیسا ہوتے ہوئے بھی ویسا نہیں کتنی عظیم تصویر ہی کیوں نہ ہومگر اس تصویر کو آپ مصوّر نہیں کہہ سکتے۔تصویر، تصویر رہے گی مصوّر، مصوّ ر ر ہے گا حالانکہ مصوّر کا اندرونہ، اس کی فطرت ، اس کا مزاج ، اس کی بلند اور نازک خیالی یہ سب چیزیں اس تصویر میں موجود ہوتی ہیں، اسی طرح شعر کا حال ہے تو خالق ہمیشہ اپنی مخلوق سے الگ رہے گا اور خالق کی مخلوق خواہ کیسے ہی درجہ تک نہ پہنچی ہو وہ خالق نہیں کہلا سکتی یا خالق کی مثل بھی نہیں کہلاسکتی۔آپ کبھی بھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ تصویر تو فلاں مشہور مصوّر کی مثل ہے تو لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٍ کا مضمون متضاد نہیں ہے بلکہ یہ توجہ دلا رہا ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو فطرت پیدا فرمائی ہے اور انسان کو جس فطرت پر پیدا فرمایا ہے وہ اس میں اپنی تمام تر خوبیوں کے ساتھ چمک بھی اٹھے گی تب بھی وہ خالق کا شریک نہیں ہو سکتا۔چنانچہ فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا کی بہترین مثال حضرت اقدس