خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 746
خطبات طاہر جلد ۱۲ 746 خطبه جمعه ۲۴ ستمبر ۱۹۹۳ء جو صبح بھی جاری ہے اور شام کو بھی جاری ہے اور دو پہر کو بھی جاری ہے تو سُبحن کا مضمون بتاتا ہے کہ ان میں صرف ایک خدا ہی ہے اور خدا کے سوا کسی کا دخل ہی نہیں ہے۔اب دنیا میں ایک دہر یہ سائنس دان بھی یہ کہنے پر تو بہر حال مجبور ہے کہ اس نظام کا ئنات میں کسی اور کا ہاتھ نہیں۔وہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ کا بھی نہیں لیکن اس کا جھوٹ تو بالبداہت واضح ہے لیکن یہ تو اقرار کرتے ہیں کہ کوئی اور بہر حال نہیں۔آئن سٹائن نے جب اس بات پر غور کیا تو وہ ان معنوں میں ضرور خدا کا قائل ہو گیا کہ ایسا کامل نظام، کائنات میں ایسا توازن ، اتنا خوبصورت توازن خدا کے سوا ہو نہیں سکتا۔پس ان خدا دانوں میں سے وہ بھی ہے جن کو دن اور رات پر غور کرنے کے نتیجہ میں خدا کے متعلق اتنا سا علم تو ضرور ہو گیا کہ اس کائنات کا ایک پیدا کرنے والا ضرور ہونا چاہئے لیکن آئن سٹائن نے یہ نہیں کہا کہ صرف پیدا کرنے والا ، وہ یہاں نہیں ٹھہرا بلکہ یہ جانتا ہے کہ اس کو Maintain کرنے والا بھی ہے کیونکہ پیدا کر کے بھول جانے والا تو اس بات کا ضامن نہیں ہے کہ آئندہ یہ نظام اسی طرح جاری ہے۔پس آئن سٹائن کے اس فقرے سے مجھ پر یہ تاثر ہوا کہ اتنا صاحب عقل ضرور تھا کہ کائنات پر غور کرنے کے نتیجہ میں ایک خالق کو ہی نہیں پہچانا بلکہ ایسے خالق کو پہچانا جس کا جاری نظام میں دخل ہے اور وہ اس بات پر نگران ہے کہ یہ توازن نہ بگڑے۔پس اللہ تعالیٰ کی طرف تبتل کائنات پر غور کے نتیجہ میں بھی ہو سکتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ غور کے نتیجہ میں تبتل نصیب ہو۔جب تک فطرت سے یہ آواز بلند نہ ہو کہ ہاں اے خالق ! ہم نے تجھے پہچان گئے ، تیرے سوا کوئی نہیں۔اس وقت تک خدا کی ہستی کا یہ یقین عقل کی نشاندہی کرنے والا ایک معمولی سا مضمون تو ہے یعنی یقین اس بات کی نشاندہی تو کرتا ہے کہ صاحب عقل ہے لیکن ان اولوا الباب میں داخل نہیں ہے جو پھر اگلا قدم اٹھاتے ہیں اور اس کائنات سے ہٹ کر اس کے وراء جو ہستی ہے جس نے سب کچھ پیدا کیا ہے اس کی طرف ان کی توجہ مائل ہوتی ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جن کا صاحب ایمان ہونا ضروری ہے۔پس تجمل کی مختلف قسمیں ہیں۔آئندہ خطبہ میں میں تبتل کے مضمون پر انشاء اللہ مزید روشنی ڈالوں گا اور حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی احادیث کے حوالے سے ان آیات کی اور تشریحات آپ کے سامنے پیش کروں گا۔اب چونکہ وقت ختم ہو رہا ہے اس لئے اجازت چاہتا ہوں۔