خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 744
خطبات طاہر جلد ۱۲ 744 خطبه جمعه ۲۴ ستمبر ۱۹۹۳ء ہر وقت خدا کے حضور حاضر نہیں تھے ، اسلام کی حالت میں نہیں تھے؟ تو آیت کے دوسرے حصے نے بتادیا کہ کوئی تازہ حکم نہیں ہے بلکہ آپ کی ایک جاری وساری ہمیشہ باقی رہنے والی حالت کا تعارف کروایا جارہا ہے آپ نے جیسے کبھی شرک نہیں کیا ویسے ہی ہمیشہ سے آپ مسلمان تھے اور یہاں لَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِكيْنَ میں دراصل خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ اعلان ہے کہ اس آیت کے سب سے زیادہ مصداق کہ شرک نہیں کرنا اور اسے پورا کرنے والے محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ایک جگہ صلى اللهم امریعنی حکم ہے کہ یوں کرو، دوسری جگہ مناہی ہے کہ یوں نہ کرو۔بظاہر دونوں ہدایات وقتی طور پر ہیں لیکن دونوں مضامین ثابت کر رہے ہیں کہ آنحضور ﷺ کی ابدی طور پر جاری وساری حالت کا نام شرک نہ کرنا اور اسلام لے آنا ہے۔پس باقیوں کے لئے نمونے کے طور پر آپ کی ذات کو پیش فرمایا گیا ہے۔اس سے ایک مضمون یہ بھی نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو حکم دیتا ہے اصل میں اسی کو دیتا ہے جو اس کا مصداق ہو۔ویسے تو سب کو حکم ہے مگر جو خدا کے حکم نہیں مانتے وہ خدا کی عبودیت سے باہر نکل چکے ہوتے ہیں اور حکم میں اصل مراد وہی ہوتا ہے جو سب سے زیادہ اس پر عمل کرنے والا ہو۔ان معنوں میں اس آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ رسول اکرم یہ کو جب خدا نے فرمایا کہ مشرکوں میں سے نہ ہو تو یہی وہ بندہ ہے جو سب سے زیادہ شرک سے نفرت کرنے والا اور شرک سے پر ہیز کرنے والا تھا۔اس سے بڑھ کر یہ مناہی کسی اور ذات پر صادق نہیں آتی تھی۔پس خدا نے اس کو کہنے کے لئے چنا ہے اور اس کے حوالے سے تم سب کو حکم ہے اسلام کا حکم بھی آنحضور کے حوالے سے ہے کیونکہ آپ اول ہو گئے اور اسی اقلیت میں شرک نہ کرنے کی اولیت بھی داخل ہو گئی۔پس جو ان دونوں مضامین میں اول ہے اس کے پیچھے لگو۔اس کی پیروی کرو، اس سے سیکھو۔قُلْ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمِ۔تو ان سے کہہ دے کہ میں اس بات سے بہت خائف رہتا ہوں کہ اگر میں نے اللہ تعالیٰ کی معصیت کی تو ایک یوم عظیم کا عذاب بھی ہے جو سامنے کھڑا ہے۔اگر آنحضرت لیلی لیلی صلى الله ہر وقت خدا سے اس بات میں خائف رہتے ہیں کہ ایک یوم عظیم کا عذاب سامنے کھڑا ہے حالانکہ ان کے متعلق اللہ یہ گواہی دے چکا ہے کہ اسلام لانے والوں میں سب سے اول ہیں۔شرک نہ کرنے والوں میں سب سے اول ہیں تو باقیوں کا کیا حال ہونا چاہئے۔اِنِّى لَكُمْ مِّنْهُ نَذِيرٌ مُّبِينٌ - کا مضمون مزید سمجھ آیا کہ آپ کو کیوں چنا ہے۔خدا کی طرف سے ڈرانے کے لئے اس کو چنا گیا ہے جو