خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 742
خطبات طاہر جلد ۱۲ 742 خطبه جمعه ۲۴ ستمبر ۱۹۹۳ء ضروری ہے جو انسان کا مددگار بنتا ہے اور ہمیں یہ آیت رستہ سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خاطر عزیزوں سے تعلق توڑنا ہو تو اللہ تعالیٰ کی مثبت صفات پر غور کرو۔اس کے نتیجہ میں غیر اللہ سے تعلق ٹوٹے گا۔محض ایک خیالی چھلانگ نہیں لگائی جا سکتی۔قرآن کریم نے اس سفر کو ایک اور آیت میں یوں بیان فرمایا ہے۔إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَا يَتِ لِأُولِي الْأَلْبَابِ (ال عمران : ۱۹۱) اہل عقل کے لئے نشانیاں ہیں اور اہل عقل جوں جوں اس مضمون کو سمجھتے چلے جاتے ہیں کہ فاطر یعنی ابتداء میں پیدا کرنے والا اور خالق ،اس میں نئے تنوعات کرتے چلے جانے والا وہ ایک ہی وجود ہے تو پھر غیر اللہ سے طبیعت بہتی چلی جاتی ہے۔اس سے تعلق مدھم پڑتا چلا جاتا ہے اور اس سفر کے دوران غور کے نتیجہ میں ہر غور کے بعد ان کی فطرت یہ آواز دیتی ہے کہ اے خدا! تیرے سوا اور کوئی نہیں ہے۔سُبُحْنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (ال عمران : ۱۹۲)۔یہ دنیا باطل ہے۔اگر تو نے ہم پر احسان نہ فرمایا تو ہمارا اس دنیا سے تعلق ایک عذاب کا تعلق بن جائے گا۔یہ آگ ہی آگ ہے اگر تو نہ ہو۔اس آیت کے متعلق میں پہلے بھی مختلف وقتوں میں بیان کر چکا ہوں اس لئے پوری آیت پڑھ کر تفسیر نہیں کرتا لیکن اس تعلق میں میں آپ کو یہ یاد کرا تا ہوں کہ یہ وہی مضمون ہے کہ قُلْ أَغَيْرَ اللَّهِ أَتَّخِذُ وَلِيًّا فَاطِرِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ لَه فَاطِرِ السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ کی قدرتوں پر غور کرنے کے نتیجہ میں انسان اللہ کی طرف مائل ہوتا ہے تو پھر دنیا سے تعلق ایک نیا رنگ اختیار کرتا ہے اور اس تعلق کے بڑھنے کو انسان آگ سمجھتا ہے اور اس تعلق کو باطل قرار دیتا ہے اور جانتا ہے کہ اگر اس تعلق کو حقیقی بنالیا تو پھر میرا ٹھکانہ آگ کے سوا کچھ نہیں، اس کا انجام آگ کے سوا کچھ نہیں اور پھر اللہ کی طرف دوڑنے کا مضمون اس سے نکلتا ہے۔پھر فرمایا وَهُوَ يُطْعِمُ وَلَا يُطْعَمُ یہ وہ ذات ہے جو کھلاتی ہے اور اس کو کوئی چیز نہیں کھلاتی وہ مستغنی بھی ہے۔اگر اس سے تعلق جوڑو گے تو ہر قسم کا رزق تمہیں عطا ہوگا۔يُطْعِمُ میں صرف کھانا مراد نہیں بلکہ توانائی کی ساری قسمیں آجاتی ہیں کیونکہ طعام دراصل انسان کے لئے قوت یعنی زندہ رہنے کی طاقت مہیا کرتا ہے اور دیگر سب توانائی کھانے سے ملتی ہے۔روحانی معنوں میں بھی یہاں طعام کا ذکر فرما دیا گیا۔هُوَ يُطْعِمُ اس سے ہر طرح