خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 741
خطبات طاہر جلد ۱۲ 741 خطبه جمعه ۲۴ ستمبر ۱۹۹۳ء اس آیت کے اطلاق سے پیدا ہوتا ہے اور ہم جیسے عاجز انسانوں کو رستے کی مشکلات سے آگاہ کرتا ہے۔فرماتا ہے کہ یہ سفر آسان کرنا ہے تو ملاقات کا خیال غالب رکھو، یہ پیش نظر رکھو کہ تم سے ایک وعدہ ہے کہ اللہ تم سے ضرور ملاقات کرلے گا اور یہاں بھی قدم قدم کا مضمون صادق آتا ہے۔تمام وہ لوگ جو دنیا سے تعلق تو ڑ کر ( یعنی ان معنوں میں جن معنوں میں میں پہلے بیان کر چکا ہوں اور آئندہ بھی کچھ کروں گا ) خدا کی طرف حرکت کر رہے ہوتے ہیں ان کو کچھ نہ کچھ طعمہ کے طور پر ان کی محنت کی جزاء ساتھ ساتھ مل رہی ہوتی ہے۔ورنہ محض عدم تعلق سے ایک خیالی محبوب کی طرف حرکت ممکن ہی نہیں ہے۔جب وہ دنیا سے تھوڑا تھوڑا تعلق توڑتے ہیں تو وہیں اللہ سے ایک قسم کی ملاقات حاصل کر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے پیار سے ان پر ضرور جلوہ گر ہوتا ہے اگر یہ نہ ہو تو یہ سفر ناممکن ہو جائے۔پس وہ لوگ جو سالک ہیں اور آغاز سفر میں ان کو بھی یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اگر ان کی محنت کا پھل ساتھ ساتھ نہیں ملتا تو ان کی محنت درست نہیں ہے، اس میں ضرور خامیاں ہیں۔ان کو غلط نہی ہے کہ وہ دنیا سے تعلق توڑ کر خدا کی طرف جارہے ہیں۔کیونکہ فَمُلقِیه کا وعدہ صرف آخرت کا وعدہ نہیں بلکہ ہر کوشش کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے لقاء کے ملنے والے انعامات ہیں جو انسان کو ساتھ ساتھ کچھ نہ کچھ ضرور نصیب ہوتے رہتے ہیں۔پس یہ آیت کریمہ تبتل کے مضمون میں ایک بہت عظیم مرتبہ رکھتی ہے اور اس کے سارے پہلوؤں کو بیان فرماتی ہے۔پھر سورۃ الانعام آیت ۱۵-۱۶ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: قُلْ أَغَيْرَ اللهِ اَتَّخِذُ وَلِيًّا فَاطِرِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ يُطْعِمُ وَلَا يُطْعَمُ قُلْ إِلَى أُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ قُلْ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ ) صلى الله اے محمد تو یہ اعلان کر دے کہ میں اللہ کے سوا کوئی ولی کیسے ڈھونڈوں ، اس کا سوال ہی کیا پیدا ہوتا ہے۔فَاطِرِ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ وہی ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اس کے سوا کوئی پیدا کرنے والا ہے ہی نہیں تو کسی اور کی درگاہ کی طرف ذہن جا کیسے سکتا ہے۔اس کے سوا ہے ہی کوئی نہیں۔پس یہاں بھی غیر اللہ سے تعلق توڑنے سے پہلے ایک فاطر کے وجود کا تصور