خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 739
خطبات طاہر جلد ۱۲ 739 خطبه جمعه ۲۴ ستمبر ۱۹۹۳ء انسانیت کا مرجع ہے۔تمام انسانیت کی معراج ہے۔اِنَّكَ كَادِحٌ إِلى رَبِّكَ كَدْحًا تیرے لئے تو اس کے سوا ہے ہی کچھ نہیں کہ اپنی تمام تر طاقتیں ہر وہ صلاحیت جو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہے وہ اللہ کے لقاء کی خاطر صرف کر دے اور اسی میں اپنی ساری قوتوں کو ہلاک کر دے۔کچھ بھی باقی نہ چھوڑے، تمام جان کے ساتھ ، تمام شعور کے ساتھ ، تمام ہمت کے ساتھ ، اپنے وقت کے ہر ہر لمحہ کو اللہ کے لئے وقف رکھے۔یہ تیرا مقد رہے۔تو نے اس کے سوا کرنا کچھ نہیں اِنک گادِ مح تو ہے ہی ایسا، یہ مطلب بنتا ہے۔اس کے سوا تجھ سے کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔فَمُلقِیه پس خوشخبری ہو کہ تو وہ ہے جو ضرور اپنے رب سے ملے گا۔فَمُلقِیہ میں کوئی بعد کی خوشخبری نہیں ہے بلکہ ہر آن ہر کوشش کے نتیجہ میں یہ خوشخبری ہے گا دِے اِلى رَبِّكَ كَدْحًا کا مطلب یہ ہے کہ ساری زندگی یہی جدوجہد ہے یہی تلاش ہے۔یہ خوشخبری کا جو پیغام ہے اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ جب تیری جد و جہد ختم ہو صلى الله جائے گی تب تو خدا سے ملے گا۔آنحضرت مہ کی صورت میں جب یہ آیت آپ ﷺ پر اطلاق پاتی ہے تو مضمون یہ بن جاتا ہے کہ تیری ہر کوشش تجھے خدا سے ملائے گی۔ہر لمحہ تو خدا کی ایک نئی شان دیکھے گا، نیا جلوہ تجھ پر ظاہر ہوگا۔وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الأولى (الضحی : ۵) کا مضمون اس کے ساتھ مل کر ایک نئی شان میں ظاہر ہوتا ہے کہ تیری آخرت پہلے سے ان معنوں میں بہتر ہے کہ ہر لمحہ جونئی جدوجہد تو خدا کے حصول کی خاطر کرتا ہے اس کے نتیجہ میں ہر لمحہ اللہ تجھے ایک نئی شان کے ساتھ دکھائی دے گا۔اس کا دوسرا اطلاق عام ہے اور وہ بھی درجہ بدرجہ ہے اس کا ادنی اطلاق یہ بنے گا کہ وہ انسان جس کا عرفان البہی نہ ہو اور اللہ کی طرف جانا چاہے اس کا یہ سفر بڑا کٹھن ہو جاتا ہے ایک ہے عرفان کے نتیجہ میں خدا کی طرف دوڑنا، اس میں بھی ایک بڑی شدید مشقت پائی جاتی ہے، مشقت ان معنوں میں کہ جیسے محبوب کی طرح دوڑنے کے لئے انسان سعی کرتا ہے اور ہر تیزی کو بھی سست روی سمجھ رہا ہوتا ہے وہ اپنی طرف سے پورا زور لگا رہا ہے لیکن سمجھتا ہے کہ ابھی کچھ زور ہی نہیں لگ رہا، وہ فاصلے جیسے میں چاہتا ہوں ویسے طے نہیں ہورہے ، پس یہاں گنگا کا مطلب ہے کہ محبوب سامنے دکھائی دے رہا ہے پورے زور سے اس کی طرف بڑھ رہا ہوں لیکن جس شان ، جس تیزی کے ساتھ بڑھنا چاہتا ہوں وہ تیزی ابھی پوری نہیں ہوئی ہے پھر انسان اور زور لگا تا ہے پھر اور زور لگا تا ہے۔