خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 735 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 735

خطبات طاہر جلد ۱۲ 735 خطبه جمعه ۲۴ ستمبر ۱۹۹۳ء ہے۔اسی طرح جب جہازوں وغیرہ میں آپ سفر کرتے ہیں تو آپ کو بتایا جاتا ہے، مختلف وقتوں میں اعلانات ہوتے ہیں کہ خطرہ ہو تو مقام امن کیا ہے۔کس طرف ہے، کون سے رستے سے آپ وہاں پہنچیں گے۔سمندری جہازوں میں بھی یہ چیزیں لکھی جاتی ہیں، تو دیکھیں قرآن کریم کا اعلان کتنا عظیم الشان ہے۔فرمایا ہر دوسری چیز سے خطرہ ہے۔تم خطرے کی حالت میں زندگی بسر کر رہے ہو۔تمہیں بارہا یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ ہم نے دوڑنا ہے۔ہم تمہیں یہ بتاتے ہیں کہ اے محمد ﷺ تو اعلان کر دے کہ اِنِّي لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ مُّبِينٌ۔میں اس کی طرف سے یہ انذار کرنے کے لئے مقرر فرمایا گیا ہوں جس طرح مقر ر لوگ تمام مسافروں کی توجہ اپنی طرف کھینچتے ہیں اور کہتے ہیں سنو یہ بڑا ضروری اعلان ہے۔غور سے سن لو اور اپنی امن کی جگہوں کو اچھی طرح پہچان لو۔پس یہ اتنا عظیم الشان اعلان ہے کہ خوف سے بچنے کا اس سے بہتر اعلان کبھی اس شان کے ساتھ دنیا میں نہیں کیا گیا اور زَوْجَيْنِ کے مضمون کو بیان کرنے کے بعد جو یہ اعلان ہے اس نے بتادیا کہ ہر دوسرے تعلق سے خوف ہے اور اس میں گہری حکمت کا راز ہے۔ہر تعلق یقیناً مقام خوف ہے، وہ تعلق کئی طرح سے اپنے اندر خوف رکھتا ہے۔توقعات بڑی ہوتی ہیں وہ ٹوٹ جاتی ہیں، تو قعات فرضی ہوتی ہیں، ان میں کوئی حقیقت نہیں ہوتی، دوسرے تعلقات کے نتیجہ میں تعلقات بگڑ جاتے ہیں ، بے وفائیاں ہیں جو رستے میں حائل ہوتی ہیں ، قضا و قدر کے عوامل ہیں جو ان تعلقات کو تو ڑ لیتے ہیں اور انسان کا کچھ نہیں رہتا پس اگر کسی ایک تعلق سے ایسی وابستگی ہو کہ گویا وہی آخری تعلق ہے تو ایسے انسان کے مقدر میں نامرادی کے سوا کچھ بھی نہیں رہتا، بعض ماؤں کو بچوں سے تعلق ہوتا ہے اور اتنا بڑھ جاتا ہے کہ بچے مر جائیں تو پاگل ہونے لگتی ہیں بعضوں کے اوپر تو ایسی آزمائش آتی ہے کہ ایک ہی بچہ ہے اور وہ مرجاتا ہے لیکن اس میں تو حید پر قائم ماں اور شرک کی طرف مائل ماں کے رد عمل میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔میں نے خود ایسی مائیں دیکھی ہیں جن کا ایک ہی بچہ مر گیا لیکن ان کو اللہ تعالی کی طرف سے عجیب حوصلہ عطا ہوا ہے۔فَفِرُّوا اِلَی اللہ انہوں نے ضرور کیا ہے، دنیا سے تعلق کم ضرور ہوا ہے۔دنیا کے تعلق ان کو بے حقیقت دکھائی دیئے اور زیادہ خدا کی طرف مائل ہو گئیں ، زیادہ دعا گو، زیادہ تہجد گزار بن گئیں اور ہمہ تن ذکر الہی میں مصروف رہنے لگیں لیکن بے چینی اور بے قراری جس طرح شرک کی طرف مائل عورتوں میں ہوتی ہے وہ ان میں نہیں پائی گئی۔