خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 733 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 733

خطبات طاہر جلد ۱۲ 733 خطبه جمعه ۲۴ ستمبر ۱۹۹۳ء آخری جوڑ ا اللہ ہی ہے اس کی طرف دوڑ وفرمایا۔وَلَا تَجْعَلُوا مَعَ اللهِ اِلَهَا أَخَرَ مراد یہ ہے کہ اللہ کی محبت پر کسی اور کی محبت کو غالب نہ رہنے دینا وہی اصل ہے اس کے بعد جتنے تعلقات ہیں وہ ثانوی ہو جاتے ہیں، ان کی کوئی حقیقت نہیں رہتی اور پہچان یہ ہے کہ جب اس تعلق سے وہ تعلق ٹکراتے ہیں تو وہ ٹوٹتے ہیں اور یہ تعلق قائم رہتا ہے اس کے سامنے سر جھکاؤ اور کسی اور کے سامنے سر نہ جھکاؤ۔اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ کسی کی اطاعت نہ کرو اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ ماں باپ کی بھی اطاعت کرو، اولوالامر کی بھی اطاعت، بہت سی اور بھی اطاعتوں کے حکم ہیں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں جس کو امیر مقرر کرتا ہوں اس کی اطاعت کرو، اگر اس کی اطاعت نہیں کرو گے (مسلم کتاب الامارہ حدیث نمبر :۳۴۱۶) تو میری بھی نہیں کرو گے تو سر جھکانے کے مختلف مفاہیم ہیں، مختلف مضمون ہیں۔ان مضامین اور ان مفہوموں میں ہم لوگ ایک دوسرے کے سامنے سر جھکاتے ہیں مگر اس سر جھکانے کے وقت ہماری نیتیں ہمیں کیا بتا رہی ہوتی ہیں۔یہ امر ہے جو دراصل یہ فیصلہ کرتا ہے کہ ہم نے کسی اور کو اپنا معبود بنایا ہے کہ نہیں بنایا۔اللہ تعالیٰ کی خاطر سر جھکاتے ہیں یا اس پہلو سے یقین کے ساتھ ہم کسی کی اطاعت کر رہے ہیں کہ یہ دنیا کی عزت کے رشتے ہیں اور انسان ایک دوسرے سے تعاون پر مجبور ہے مگر جب یہ اطاعت خدا تعالیٰ سے ٹکرائے گی تو پھر اس اطاعت کے کوئی معنی نہیں رہیں گے۔اسی طرح محبت کی باتیں ہیں۔ایک انسان کو اپنے ماں باپ سے بھی پیار ہے ، اپنے بچوں سے بھی پیار ہے ، اپنے دوستوں سے بھی پیار ہے، بیوی سے بھی پیار ہے۔یہ سب پیارا پنی ذات میں اس آیت کے مضمون کے منافی نہیں ہیں کہ ہم نے ہر چیز کا ایک جوڑا پیدا کیا ہے۔لیکن تمہارا اصل حقیقی جوڑا اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔فَفِرُّوا اِلَى اللهِ پس اللہ کی طرف دوڑ و، جب تک خدا کا تعلق ان سب تعلقات پر غالب رہتا ہے اس وقت تک یہ منافی نہیں ہیں یعنی اگر خدا کا تعلق ایک طرف ہو اور بیوی کی محبت دوسری طرف تو خدا کا تعلق قائم رہے اور بیوی کی محبت ٹوٹ جائے یا اس پہلو سے مغلوب ہو جائے۔بچوں کا تعلق جب خدا کے تعلق سے ٹکرائے تو بچوں کے تعلق چور ہو جائیں لیکن خدا کا تعلق قائم رہے۔اسی طرح یہ موازنہ زندگی کے ہر تعلق کے وقت اپنا سراٹھاتا ہے اور ہمارا امتحان لیتا ہے۔ہر موازنہ کے وقت ہماری توحید آزمائی جاتی ہے اور ہما را فرار الى الله آزمایا جاتا ہے۔اس وقت فَفِرُّوا اِلَی اللہ کا مضمون بتاتا ہے کہ ایک بے چینی کی