خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 731 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 731

خطبات طاہر جلد ۱۲ 731 خطبه جمعه ۲۴ ستمبر ۱۹۹۳ء مطلب ایک ہی ہے بَتَّلَ اور تَبَيَّلَ میں ذرا شدت پائی جاتی ہے۔ مضمون وہی ہے کسی کو کاٹ دیا کسی کو کاٹ کر الگ کر دیا ۔ جدا کر دیا اور تقتل کا مطلب ہوتا ہے خود کٹ کر الگ ہو جانا۔ عربی لغات میں تبتل کو خالصہ اللہ کے لئے ظاہر کیا گیا ہے کیونکہ قرآن کریم سے یہ حوالہ ملا ہے اس لئے لغات بھی اس کو یہی بیان کرتی ہیں کہ تبتل سے مراد غیر اللہ سے کٹ کر یا دنیا سے کٹ کر خالصہ اللہ کا ہو جانا ہے۔ جب میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ اقتباس پڑھا تو مجھے کچھ تعجب ہوا کیونکہ میرے ذہن میں یہ تھا کہ تبتل پہلے ہوتا ہے اور توحید کے ساتھ تعلق و وابستگی تقتل کے بعد قائم ہوتے ہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کسی گہری حکمت کی وجہ سے تو حید کو پہلے رکھا ہے اور تنبل کو بعد میں رکھا ہے۔ بعد میں جوں جوں میں نے غور کیا مجھے یہ بات پوری طرح سمجھ بھی آتی گئی اور پورے یقین کے ساتھ دل میں گڑتی چلی گئی کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو تر تیب بدلی ہے یہ آپ کے عارف باللہ ہونے کا ایک عظیم نشان ہے اور اس مضمون پر جتنا گہرا غور کریں اتنا ہی یہ بات کھلتی چلی جاتی ہے کہ اصل تقتل یعنی غیر اللہ سے کٹنا خدا کے وجود سے پیوند کے نتیجہ میں حاصل ہوتا ہے اس کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ محض ایک خلا کے لئے کوئی چیز چھلانگ نہیں مارا کرتی جب تک دوسری طرف کوئی ایسا قدم تھامنے کی جگہ دکھائی نہ دے جس پر پاؤں رکھ کر پچھلی طرف سے پاؤں اٹھایا جا سکے کوئی معقول آدمی وہ قدم نہیں اٹھا سکتا۔ اسی لئے جب زمیندار پیوند کرتے ہیں تو ایک شاخ کو اپنی اصل شاخ سے کچھ دیر جڑا رہنے دیتے ہیں اور دوسری سے جوڑ دیتے ہیں۔ جب وہ یہ دیکھ لیتے ہیں کہ دوسری شاخ سے اس کا پیوند پختہ ہو گیا ہے تو پھر پہلی سے کاٹ دیتے ہیں۔ پس حضرت اقدس مسیح موعود عليه الصلاة والسلام نے اس ترتیب کو اسی حکمت کے پیش نظر بدلا اور ہمیں یہ سمجھایا کہ تمہیں سچا تبتل نصیب ہو ہی نہیں سکتا۔ جب تک خدائے واحد دیگا نہ سے پہلے سچا پیار نہ ہو۔ وہ تعلق قائم ہوگا تو تقبل کی توفیق ملے گی ورنہ تقبل محض ایک نام کا تبتل رہے گا۔ پس انہی معنوں سے تعلق میں ، میں نے وہ آیات کریمہ آپ کے سامنے تلاوت کی تھیں جو سورہ الذاریات سے لی گئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَمِنْ كُلِّ شَيْ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ کہ ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں تا کہ تم نصیحت پکڑو۔ جوڑے پیدا کرنے کا تعلق ایک کی دوسرے سے وابستگی میں مضمر ہے ایک جوڑے کو جوڑا تبھی کہا جاتا ہے جب ایک کا دوسرے سے تعلق ہو اور آپس میں