خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 69
خطبات طاہر جلد ۱۲ 69 69 خطبه جمعه ۲۲ / جنوری ۱۹۹۳ء ہے آسمان پر ایک خدا اور دنیا میں ایک رسول کی حکومت ہو یعنی ہمارے آقا اور مولا حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی اور آپ کی امت کے مفادات کو ہم دنیا کے ہر دوسرے مفاد پر فوقیت دیں اور ہر دوسرے مفاد کو اس مفاد پر قربان کرنے کے لئے دل سے تیار ہوں۔اس آواز کے ساتھ عالم اسلام کو ایک اجلاس بلانا چاہئے اس میں مذہبی تفریق کی کوئی بات نہ ہو اس میں ایک دوسرے کے عقائد پر نہ طعن و تشنیع ہو نہ ان کا ذکر کرنے کی اجازت ہو۔محمد رسول اللہ ﷺ کی امت کی بات ہو۔ملت واحدہ کی بات ہو اور مل کر یہ فیصلہ کریں کہ ہم نے اس نازک وقت میں اپنے لئے کیا لائحہ عمل تیار کرنا ہے اور جو لائحہ عمل بھی تیار کریں وہ تقویٰ اور انصاف کے نام پر تیار کریں۔ایسالائحہ عمل نہ ہو جو امت مسلمہ کو دوسروں سے الگ کر کے بیچ میں فاصلے پیدا کر دے کیونکہ فاصلے ہمیں موافق نہیں آسکتے فاصلوں کے لئے ہم بنائے نہیں گئے ، ہم نے ساری دنیا میں ملنا ہے۔دنیا کو پیغام حق پہنچانا ہے ان کے دل جیتے ہیں۔پس کوئی ایسا لائحہ عمل جو اسلام کو باقی دنیا سے الگ کر کے ایک طرف پھینک دے وہ لائحہ عمل اسلامی نہیں ہو سکتا۔عالمی تصور انصاف پر مبنی ، حق کی باتوں پر مبنی ، وہ حق جس کا ذکر قرآن کریم میں بار بار ملتا ہے اور جس میں کوئی تفریق نہیں ہے، کوئی رنگ ونسل کا امتیاز نہیں وہ حق جو خدا کا نام ہے وہ حق جس کے نام پر تمام بنی نوع انسان کو دوبارہ اکٹھا کیا جاسکتا ہے اس حق کی باتیں کریں اور دنیا کی سیادت کو سچائی سے اپنے زیرنگیں کریں دنیا کی سیادتوں کو سچائی کے نام پر زیرنگیں کریں اور اس سیادت کے اعلیٰ اور ارفع مقام کو حاصل کریں جو محمد رسول اللہ ﷺ کے لئے بنائی گئی ہے۔یہ سیادت زور بازو سے تو حاصل نہیں ہو سکتی ،نفرتوں کی تعلیم سے تو حاصل نہیں ہوسکتی۔اپنے امتیازی حقوق کے تصور سے تو حاصل نہیں ہو سکتی۔یہ سیادت تو اسی طرح حاصل ہو گی جیسے ہمارے آقا و مولیٰ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ نے اس سیادت کو حاصل کرنے کا راز بتایا تھا۔فرمایا: سيد القوم خادمهم (الجہادلا بن المبارک کتاب الجہا د حدیث نمبر : ۲۰۷) کہ بنی نوع انسان کی خدمت کی آواز بلند کرو اور سیادت کا معاملہ آسمان کے خدا پر رہنے دو تم اگر خدمت کرو گے اور بنی نوع انسان کی خدمت کے نام پر ایک وحدت کی اپیل کرو گے اور سچ کی طرف ان کی راہنمائی کرو گے تو لا ز ما تم ساری دنیا کے سردار بن کر ابھرو گے کیونکہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ کے منہ کی کوئی بات کوئی ایک کلمہ، ایک کلمہ کی زیر زبر بھی کبھی غلط ثابت نہیں ہوئی۔آپ نے معرفت کا اتنا عظیم نکتہ ہمارے