خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 68
خطبات طاہر جلد ۱۲ 68 خطبه جمعه ۲۲ / جنوری ۱۹۹۳ء صلى الله سعادت تو اسی میں تھی کہ خدا تعالیٰ نے جب امام مہدی کو دنیا میں بھیجا تو اس کو قبول کرتے اور حضرت محمد رسول اللہ ہی کی خاطر اور آپ کی محبت میں اس کے ایک ہاتھ پر اکٹھا ہو جاتے صلى الله جو محمد رسول اللہ ﷺ کی نمائندگی میں اٹھنے والا آپ ﷺ کی نمائندگی میں بیٹھنے والا ، آپ ﷺ کی ہر حرکت پر حرکت کرنے والا اور ہر سکوت پر سکوت کرنے والا ہاتھ تھا۔وہ ہاتھ تھا جو خدائی تقدیر کے ہے مطابق اس دنیا میں بھیجا گیا تھا۔اس ہاتھ پر بیعت کرنا حقیقت میں تمام عالم اسلام کے مسائل کو حل کرنے کے مترادف ہے لیکن اس بات کو تو تم کھو چکے ہو اور کھو رہے ہو۔ہزار طریق سے ہم نے سمجھانے کی کوشش کی مگر تم ماننے کے نہیں اور دنیا میں تمہارے سامنے خدا تعالیٰ کی تقدیران مظالم اور مصائب کی صورت میں آنکھیں پھاڑے تمہیں دیکھ رہی ہے اور جب چاہے جس پر چاہے یہ برستی ہے خدا کی تقدیر خواہ غیر کی طرف سے ظاہر ہو رہی ہو کیونکہ محمد رسول اللہ اللہ کے سچے غلاموں کا یہ مقدر ہو ہی نہیں سکتا۔ایک سزا ہے مگر میں یہ سمجھتا ہوں کہ دائمی سزا نہیں۔ایسی سزا نہیں جو تمہیں مٹا دینے کے لئے آئی ہو۔یہ ابتلاء کے زلزلے ہیں۔تمہیں جگانے کے لئے یہ وہ قارعہ ہے جو آسمان سے اتر رہی ہے تمہارے گھروں کے دروازے کھٹکھٹا رہی ہے ہوش کرو اور آسمان کی اس آواز کو سنو جس نے اعلان کیا کہ مسیح آگیا ہے اور مسیح آگیا ہے اور زمین کی اس آواز کو سنو جس نے یہ کہا کہ محمد مصطفی ﷺ کا بھیجا ہوا مہدی بھی آج تشریف لے آیا ہے لیکن اگر یہ باتیں سننے کے کان نہیں اور یہ باتیں دیکھنے اور سمجھنے کی آنکھیں نہیں تو خدا کے لئے کم سے کم اس قیادت کی سچائی کی آواز کوسنو جو تمہاری بھلائی کے لئے اٹھتی ہے۔احمدی ہو یا نہ ہو یہ تمہارا کام ہے مگر خدا کی قسم احمدیت سے تمہارا دین ہی نہیں تمہاری دنیا بھی وابستہ کر دی گئی ہے۔احمدیت کی قیادت کو چھوڑ کر تمہارے لئے کہیں پناہ نہیں ہے۔میں بار بارخدا کو گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں کہ جب بھی تمہیں خیر پہنچے گی احمدیت سے پہنچے گی۔جب بھی تم شر دیکھو گے احمدیت سے دور ہو کر اور احمدیت پر مظالم کے نتیجہ میں شرد یکھو گے۔پس ان باتوں کو سوچو اور سمجھو۔عالم اسلام کو اس وقت ایک آواز پر اکٹھا کرنے کا وقت ہے اور وہ آواز صرف یہ ہو کہ آؤ ہم نیکیوں پر اکٹھے ہو جائیں امت مسلمہ کے مشترکہ مفاد پر ا کٹھے ہو جائیں ہمیں سیادتوں اور قیادتوں سے کوئی غرض نہیں ہے۔محمد رسول اللہ ﷺ کے غلاموں کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کرنے سے غرض ہے آؤ اس قدر واحد پر اکٹھے ہو جائیں جو قرآن کریم نے ہمارے سامنے پیش کی