خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 67
خطبات طاہر جلد ۱۲ 67 خطبه جمعه ۲۲ / جنوری ۱۹۹۳ء سربلندی کی کرتا ہے ان کو حق کیا ہے۔جب اسلام کے سارے مفادات اپنے مفادات کی خاطر غیروں کے قدموں پر لٹا بیٹھے ہو تو پھر تمہیں ہمارے آقا و مولی محمد مصطفی ﷺ کا نام لینے کا کیا حق ہے؟ لیکن عوام سے جب ووٹ لیتے ہو پھر اسی نام پر لیتے ہو ظلم کی حد ہوتی ہے، سارا عالم اسلام احمق سیادت کے ہاتھوں ظلم کی چکی میں پیسا جا رہا ہے، اپنوں کے ظلم کی چکی میں پیسا جا رہا ہے۔پس ضرورت ہے کہ ان کو یاد دلایا جائے۔ان کو ہوش دلائی جائے عالم اسلام کے اکٹھے ہونے کی شدید ضرورت ہے اور یہ اجتماع ایک ہاتھ پر تو ہو نہیں ہو سکتا کیونکہ مذہبی اختلاف اتنے ہیں اور اتنے فرقوں میں اسلام بٹ چکا ہے اور ہر فرقہ پھر آگے مولویوں کی مساجد میں بٹا ہوا ہے کہ یہ کوشش ہی بالکل بے سود اور لا حاصل ہے کہ مذہبی لحاظ سے آپ عالم اسلام کو ایک جگہ اکٹھا کر سکیں۔ایک ہی صورت ہے اور وہی صورت ہے جس صورت کو اختیار کرتے ہوئے قائد اعظم نے برصغیر ہندوستان اور پاکستان کے مسلمانوں کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کیا تھا انہوں نے یہ اعلان کیا تھا کہ مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ تمہارے عقیدے کیا ہیں ، مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ تم ہاتھ باندھ کر نماز پڑھتے ہو یا پہلوؤں کو چھوڑ کر نماز پڑھتے ہو یا نہیں پڑھتے اگر تم مسلمان ہو یعنی اسلام سے تعلق رکھتے ہو اگر تمہارا دعویٰ ہے کہ تم مسلمان ہو تو آؤ ! ہم اس ایک نام پر اکٹھے ہو جاتے ہیں۔یہ سیاسی وحدت ہے اور سیاسیات میں سیاسی وحدت کی ضرورت ہے۔مذہبی وحدتیں قائم کرنا اللہ کا کام ہے یہ وحدتیں آسمان سے اترا کرتی ہیں زمین سے نہیں اُگا کرتیں اور یہ وحدت قائم کرنے کے تو خدا نے خود سامان فرما دئے ہیں وہ حبل اللہ جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کے دل پر قرآن کی صورت میں نازل ہوئی وہ حبل اللہ جو حضرت محمد رسول اللہ یہ کی صورت میں ایک زندہ نشان کے طور پر ہم نے دیکھی اور جو بعد میں آپ کی غلامی میں خلافت کی صورت میں جاری وساری ہوئی وہ پھر دوبارہ آسمان سے مسلمانوں کو اکٹھا کرنے کے لئے اتاری گئی ہے اور مذہبی اجتماع ہمیشہ آسمانی تقدیر کے تابع ہوا کرتے ہیں۔یہ مرکزیت جب ایک دفعہ اٹھ جائے تو پھر آسمان کی رفعتوں سے خدا کی مرضی اور اس کے ارادے کے مطابق اُتر ا کرتی ہے انسان کا کام نہیں ہے کہ وہ اس بکھری ہوئی منتشر مرکزیت کو اکٹھا کر کے پھر ایک مرکزی خلیہ بنادے۔پس ان باتوں کو چھوڑ دو جو تمہارے بس میں نہیں ہیں اور تمہارے اختیار میں نہیں ہیں۔