خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 699 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 699

خطبات طاہر جلد ۱۲ 699 خطبه جمعه ۱۰ار ستمبر ۱۹۹۳ء پیش کرتے چلے جاتے ہیں۔اب ہم وہ ہیں جو حضرت محمد رسول اللہ علیہ کی طرف منسوب ہونے والے ہیں ہم نے بھی یہ سال عالمی خدمتِ خلق کا سال منانے کا فیصلہ کیا ہے۔میں آپ کو یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ یہ سال کس رنگ میں منایا جائے گا اور کس رنگ میں یہ سال منانے کا حق ادا ہو سکتا ہے؟ صرف ایک ہی رنگ ہے وہ محمد رسول اللہ ﷺ کا رنگ ہے۔وہ رنگ اختیار کریں اپنے وجود سے دورنگی دور کر دیں۔خدا تعالیٰ کی محبت میں فنا ہوں اور جس مخلوق سے محبت کریں خدا کی محبت کی خاطر کریں اور خدا کی محبت کے جذبے سے مجبور ہو کر کریں۔خاطر کا لفظ نسبتا نرم ہے کیونکہ جب انسان کہتا ہے کہ اس کی خاطر کرو اس میں کچھ کوشش اور کچھ جد و جہد ، کچھ تکلف پایا جاتا ہے۔بعض دفعہ ایک فقیر مانگتا ہے جو صاحب خانہ ہے اس کا دل نہیں چاہتا اس کو دینے کو۔وہ کہتا ہے اپنے بچوں کی خاطر ، اپنی بیوی کی خاطر ، اپنے پیاروں کی خاطر۔خاطر کہہ کہہ کر ایسے دل کو پسمانے کی کوشش کرتا ہے جس کے دل سے اس کے لئے کوئی رحم نہیں اہل رہا ہوتا، کوئی دل میں رحم کا جذ بہ خود بخود پیدا نہیں ہوتا مگر خدا کی محبت میں جب آپ کسی بنی نوع انسان سے محبت کرتے ہیں تو خاطر کا لفظ بیچ میں سے اٹھ جاتا ہے۔خدا کی محبت کا طبعی تقاضا ہے کہ آپ بنی نوع انسان سے محبت کریں۔کسی انسان سے پیار سچا ہو تو اس کے پیاروں کو ویسے ہی دیکھ کے پیار آتا ہے۔میں نے پہلے بھی بار ہا ذکر کیا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کو ہم نے قادیان کے زمانے میں بچپن میں دیکھا ہوا ہے۔وہ باتیں جو اس وقت سمجھ نہیں آتی تھیں اب سمجھ آتی ہیں۔وہ مشرک نہیں تھے بڑے موحد صحابہ تھے اور تو حید کے مضمون کو خوب سمجھتے تھے لیکن مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ان کا تعلق محض نظریاتی تعلق نہیں تھا گہرا اقلیمی تعلق تھا اور عشق کی حد تک۔اسی لئے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کے بچوں کو دیکھتے تھے جن کا خونی رشتہ تھا تو بڑھ کر ان سے پیار کرتے اور بعض صحابہ زبردستی ہمارا ہاتھ پکڑ کر گھسیٹ کر چوم لیا کرتے تھے اور بچپن میں مجھے یاد ہے اتنی شرمندگی ہوتی تھی کہ دل چاہتا ہے کہ زمین میں انسان گڑ جائے اور کچھ پیش نہیں جاتی تھی کیونکہ ان کی بزرگی کا تقاضا تھا کہ ضرورت سے زیادہ ان سے زور آزمائی نہ کی جائے۔وہ کھینچ کھانچ کر آخر ہاتھ کو پیار کر ہی لیا کرتے تھے۔اس وقت پوری طرح یہ مضمون واضح نہیں ہوا کہ ہم کیا ہیں اور ہماری حقیقت کیا ہے؟ اتنے بڑے بڑے بزرگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے فیض یافتہ لوگ یہ ہم جیسوں کے ہاتھ